1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یروشلم میں بم حملہ، یورپی یونین کی مذمت

یورپی یونین نے یروشلم میں بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ پٹی میں تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بدھ کے دن یروشلم میں ایک بس پر بم حملے کے نتیجے میں کم ازکم ایک فرد ہلاک جبکہ دیگر تیس زخمی ہو گئے تھے۔

default

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا،’ میں یروشلم میں ہونے والے بم حملے کی شدید انداز میں مذمت کرتی ہوں۔ میں حالیہ دنوں میں ہونے والے ان حملوں کی بھی مذمت کرتی ہوں، جس میں غزہ سے اسرائیلی سرحدوں کے اندر راکٹ اور مارٹر گولے فائر کیے گئے ہیں‘۔

کیتھرین ایشٹن نے ان حملوں کے بعد غزہ میں پر تشدد واقعات کے رونما ہونے کے بارے میں بھی خبردار کیا،’ کسی بھی صورتحال میں شہریوں پر حملہ قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے‘۔ ایشٹن نے اطراف پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

Israel Bombe in Jerusalem

ایک زخمی کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے

منگل کو اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ شہر میں کی گئی دو مختلف عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں دو بچوں سمیت کل آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جس کے بعد غزہ میں حماس جنگجوؤں نے بدلے کی دھمکی دی تھی۔ اس دھمکی کے کچھ گھنٹوں بعد ہی یروشلم میں ایک مصروف مقام پر ایک بس کو بم کا نشانہ بنایا گیا۔

مرکزی یروشلم میں بم دھماکے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک میں سکیورٹی کی صورتحال یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اپنے ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

یروشلم میں حملے کے بعد امریکی صدر باراک اوباما اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی مذمتی بیان جاری کیے ہیں۔ بان کی مون نے اس حملے کو ناقابل قبول قرار دیا جبکہ باراک اوباما نے کہا کہ اطراف تشدد کے راستے سے گریز کرتے ہوئے، مذاکرات کی راہ اختیار کریں۔

دوسری طرف حماس نے یروشلم بم حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ فلسطینی وزیر اعظم سلام فیاض نے اسے ’دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM