1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یروشلم: امریکی صدر کا اعلان اور عالمی ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے۔ اس پر مسلمان ممالک اور یورپی یونین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

یروشلم کو امریکا نے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے۔ اس اعلان کو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک تاریخی اور دلیرانہ فیصلہ قرار دیا ہے تو فلسطینی رہنماؤں کے مطابق امریکا نے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی کوششوں سے مکمل دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ فلسطینی لیڈر محمود عباس نے اس امریکی فیصلے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ انتہا پسند فلسطینی تنظیم حماس کے مطابق امریکا نے اس اعلان سے دوزخ کا دروازہ کھول دیا ہے۔

یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں، ٹرمپ

یروشلم کے حالات پر فکر مند ہوں، پوپ فرانسس

مشرقِ وسطیٰ میں تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں، نیتن یاہو

امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی، ٹرمپ نے عباس کو آگاہ کر دیا

دیگر عالمی رہنماؤں کا ردعمل کچھ یوں ہے:۔

جرمنی: جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دہائیوں سے جاری امریکی پالیسی کو بدل کر مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے حل کی کوششوں کو تقویت نہیں بخشی اور جرمنی دو ریاستی حل کے مذاکرات کی روشنی میں یروشلم کی حتمی حیثیت کا تعین کرنے کا حامی ہے۔ چانسلر میرکل نے بظاہر خود کو اس فیصلے سے دور رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔

Palästina Gaza Proteste (Reuters/M. Salem)

غزہ میں فلسطینی مظاہرین امریکی و اسرائیلی پرچم نذرآتش کرتے ہوئے

یورپی یونین: یورپ کے اٹھائیس رکنی اتحاد یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے امریکی صدر کے اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یروشلم کا حتمی اسٹیٹس دونوں ملکوں کے مستقبل کے دارالحکومت کے طور پر ہونا ضروری ہے اور مذاکرات سے ہی فریقین رضامند ہوں گے۔

برطانیہ: برطانوی وزیراعظم ٹریزا مَے نے کہا کہ اُن کی حکومت اس امریکی فیصلے کے ساتھ متفق نہیں ہے اور یہ کسی بھی طور پر امن کوششوں کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گا۔

فرانس: فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے ٹرمپ کے فیصلے کو قابلِ افسوس قرار دیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں ممکنہ پرتشدد حالات کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کرنی ہو گی۔ ماکروں نے یہ بھی کہا کہ فرانس اور یورپ دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں۔

سعودی عرب: ریاض حکومت نے اس امریکی فیصلے کو غیر منصفانہ اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ یہ تاریخی راستے سے انحراف اور فلسطینیوں کو اُن کے ایک مستقل حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ سعودی ریاست کے مطابق اس فیصلے کے انتہائی منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ سعودی اتحادی اور خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات نے بھی امریکی صدر کے اِس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

ایران: تہران نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ  تشدد کی ایک نئی لہر یا نئی انتفادہ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ ایرانی حکومت نے اس امریکی فیصلے کو جارحانہ اور غیردانشمندانہ قرار دیا۔

USA Trump erkennt Jerusalem als Hauptstadt Israels an (Reuters/J. Ernst)

بدھ چھ ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریر کرتے ہوئے

سیکرٹری جنرل، اقوام متحدہ: انٹونیو گوٹیرش نے بھی صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کی ہے اور کہا کہ یروشلم کے مستقبل کا فیصلہ امن مذاکرات کے ساتھ طے ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور سیکرٹری جنرل پہلے دن سے ایسے کسی امریکی فیصلے کو وہ ہدف تنقید بناتے رہے ہیں کیونکہ ایسے یک طرفہ فیصلے امن کوششوں کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔

شام: جنگ زدہ ملک شام کے صدر بشار الاسد کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینی تنازعے کی اہمیت کو کم کرنے میں ناکام رہے گا۔ بیان کے مطابق یروشلم کا مستقبل امریکی صدر کے فیصلے سے نہیں طے ہو گا بلکہ تاریخ، عوامی آراء اور فلسطین کے قیام کی حقیقی کوششوں سے اس کا تعین ہو گا۔

لبنان: لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کا یہ حق ہے کہ اُن کے لیے ایک آزاد ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے اور یروشلم اُس کا دارالحکومت ہونا ضروری ہے۔

Israel US Botschaft in Tel Aviv (Getty Images/AFP/J. Guez)

اسرائیلی شہر تل ابیب میں امریکی سفارت خانے کو بھی منتقل کر دیا جائے گا

اردن: اردن نے بھی امریکی صدر کے اعلان کے حوالے سے گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اِسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی قرار دیا۔

انڈونیشیا: آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے ملکی ٹیلی وژن پر ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اپنی وزارت خارجہ سے کہا کہ امریکی سفیر کو طلب کرکے انڈونیشی حکومت کے احساسات سے آگاہ کیا جائے۔

ترکی: ترک حکومت نے بھی اس امریکی فیصلے کو انتہائی غیرذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ یہ امریکی فیصلہ اقوام متحدہ کے احترام کے خلاف ہے اور سارا خطہ خطرے کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

DW.COM