1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

یاسر شاہ عارضی طور پر معطل، پابندی کا خدشہ

پاکستانی کرکٹر یاسر شاہ کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے نتیجے میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ان پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ خدشہ ہے کہ ڈوپنگ ضوابط کی خلاف ورزی پر انہیں پابندی کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

کرکٹ کے عالمی منتظم ادارے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اتوار کے دن بتایا ہے کہ یاسر شاہ ڈوپنگ ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ آئی سی سی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق یاسر شاہ کی طرف سے ٹیسٹ میچ کے دوران مہیا کردہ نمونے کے نتائج کے مطابق انہوں نے ڈوپنگ کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے ان پر عارضی طور پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

DW.COM

آئی سی سی کے مطابق تیرہ نومبر سن 2015 کو لیے گئے نمونے کے تجزیے کے مطابق یاسر شاہ نے chlortalidone نامی ایک ایسی دوا کا استعمال کیا، جو واڈا قوانین کے تحت ممنوع ہے۔ آئی سی سی نے مزید کہا ہے کہ باقاعدہ انضباطی کمیٹی کے فیصلے تک یاسر شاہ کے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر عارضی طور پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

ایسا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس صورتحال میں یاسر شاہ کو پابندی کی طویل سزا سنائی جا سکتی ہے۔

انتیس سالہ یاسر شاہ کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنا، پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے ایک لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ لیگ اسپنر شاہ نے حالیہ سیریز کے دوران اپنی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے نہ صرف قومی ٹیم میں اپنا مقام بنا لیا تھا بلکہ وہ ’میچ ونر‘ بھی ثابت ہو رہے تھے۔

مایہ ناز آف اسپنر سعید اجمل پر پابندی اور بعد ازاں فارم کے لیے جدوجہد کے نتیجے میں وہ ابھی تک بین الاقوامی کرکٹ میں واپس نہیں آ سکے ہیں۔ اسی دوران یاسر شاہ نے اجمل کی کمی کو بھی پورا کیا۔

یاسر شاہ نے بارہ ٹیسٹ میچوں میں 76 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ وہ پہلے نو ٹیسٹ میچوں میں پچاس وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بولر بنے جبکہ ان کی بولنگ عالمی سطح پر بھی سراہی گئی۔

سابق آسٹریلوی بولر شین وارن نے کہا تھا کہ یاسر شاہ ایک مکمل لیگ اسپن بولر ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ شین وارن بھی اپنے کیریئر کے دوران ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی پر ایک سال کی پابندی کا شکار ہوئے تھے۔

Sri Lanka Cricket Yasir Shah

انتیس سالہ یاسر شاہ کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنا، پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے ایک لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے

ماضی میں پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈوپنگ سے متعلق کئی اسکینڈل سامنے آئے ہیں۔ سن 2006ء میں فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف بھی ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے مرتکب پائے گئے تھے، جس کی وجہ سے دونوں کھلاڑی اسی برس منعقد ہونے والی چیمپنز ٹرافی سے باہر کر دیے گئے تھے۔

تاہم یہ دونوں کھلاڑی آئی سی سی کی پابندی سے بچ گئے تھے کیونکہ ان کے ٹیسٹ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے طور پر کرائے تھے۔