1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں مزدوروں کی دو درجن سے زائد تنظیمیں اس وقت احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ اس احتجاج میں پشاور، کوئٹہ اور کراچی سمیت ملک بھر سے آئے ہوئے مزدوروں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔

default

مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ان محنت کشوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کرے اور مزدور کی کم سے کم اجر ت سات ہزار روپے سے بڑھا کر پندرہ ہزار روپے ماہانہ کی جائے۔ احتجاج کرنے والوں میں محکمہ صحت، ریلوے، پاور لومز، اخباروں، بینکوں، ڈاکخانوں اور ٹیکسٹائل فیکٹریوں سمیت مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والے مزدور شامل ہیں۔

یہ مزدور منگل کی شام لاہور کی مال روڈ پر جی پی او چوک میں اکٹھے ہوئے اور مارچ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک پہنچے۔ فیصل چوک میں اس وقت سینکڑوں مزدور احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک یہاں سے نہیں جائیں گے، جب تک حکومت ان کی آواز نہیں سنتی۔

Pakistan Landwirtschaft Reisanbau

صرف ایک سال میں کنزیومر پرائس انڈکس 13.6 فیصد سے بڑھ کر 14.08 تک پہنچ چکا ہے

اس احتجاجی دھرنے کے منتظم اور لیبر پارٹی پاکستان کے رہنما فاروق طارق نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ حکومت آنے والے بجٹ کے لیے تاجروں، صنعت کاروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے بات چیت اور مشاورت کر رہی ہے لیکن وہ محنت کش طبقے کے مطالبات کو سننا بھی پسند نہیں کرتی۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے آنے والے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھانے کے حوالے سے کیے جانے والے اعلان کی مذمت کی۔

فیصل آباد سے آئے ہوئے پاور لومز انڈسٹری سے وابستہ ایک لطیف نامی محنت کش نے بتایا کہ حکومت نے ایک سال پہلے مزدوروں کی کم سے کم اجرت سات ہزار روپے ماہانہ مقرر کی تھی لیکن حکومت اسّی فیصد اداروں میں اس اپنے ہی اعلان پر عمل در آمد کروانے میں ناکام ہو چکی ہے۔

Lastenträger

ملک میں مجموعی طور پر افراط زر کی شرح 14.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے

کارپٹ فیکٹری میں کام کرنے والے نیاز نامی ایک محنت کش نے بتایا کہ اس کے چار بچے زیر تعلیم ہیں اور ان کی ماہانہ تنخواہ پانچ ہزار روپے ہے جبکہ اوور ٹائم کبھی ملتا ہے اور کبھی نہیں ملتا۔ انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو چیلنج کیا کہ وہ پانچ ہزار روپے میں ان کے گھر کا بجٹ بنا کر دکھا دیں تو وہ کبھی بھی اپنے مطالبات کے حق میں کسی احتجاجی سرگرمی میں شریک نہیں ہوں گے۔

اس احتجاج میں شرکت کے لیے پشاور سے آنے والے ایک مزدور رہنما فاروق خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو دہشت گردی اور غربت میں تعلق کو سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں انہوں نے دیکھا ہے کہ کانسٹیبل کی تنخواہ دس ہزار روپے ہوتی تھی جبکہ طالبان جن نوجوانوں کے بطور طالب بھرتی کرتے تھے، ان کو تیس ہزار روپے مہینہ دیتے تھے۔ ان کے بقول مزدوروں کا استحصال ان میں بنیاد پرستانہ خیالات پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

ایک اقتصادی ماہر انیس احمد نے بتایا کہ صرف ایک سال میں کنزیومر پرائس انڈکس 13.6 فیصد سے بڑھ کر 14.08 تک پہنچ چکا ہے۔

اقتصادی امور کے ممتاز ماہر منصور احمد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کے تناسب سے مزدوروں میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جا سکا۔ ان کے بقول ملک میں مجموعی طور پر افراط زر کی شرح 14.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ منصور احمد کے بقول اگر پاکستان کے زمینی حقائق کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہو گا کہ اس بجٹ میں ملازمین کی تنخواہیں بڑھانا حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ ان کے بقول پاکستانی حکومت کو ٹیکسوں اور نان ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی کل آمدنی 2200 ار ب روپے کے قریب ہے، جبکہ حکومتی اخراجات 3100 ارب روپے کے لگ بھگ ہیں۔ حکومت کو 900 ارب روپے کا خسارہ پورا کرنے کے لیے نئے قرضے لینا پڑیں گے، جس کی وجہ سے افراط زر میں مزید اضافہ ہو گا۔

منصور احمد کہتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں ملازموں کی تنخواہوں میں اضافہ تو نہیں ہو سکے گا تا ہم ان کی بہتری کے لیے، آنے والے بجٹ میں چند نمائشی اعلانات ضرور سامنے آ سکتے ہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM