1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہیکرز ’ خاموش حملہ آور‘

سائبر حملے کا اکثر پتا ہی نہیں چلتا یا پھر جب ہیکنگ کا نشانہ بننے کا علم ہوتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ہیکرز انتہائی پیشہ ور ہوتے جا رہے ہیں۔ ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے، یہ موضوع ہے اس مرتبہ سائبر سکیورٹی کانفرنس کا۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس ’ایم ایس سی‘ اور جرمن ٹیلی کوم گزشتہ تین برسوں سے مل کر سائبر سکیورٹی کانفرنس کی میزبانی کرتے آ رہے ہیں۔ ہر سال یہ کانفرنس جرمنی میں منعقد ہوتی رہی ہے تاہم اس مرتبہ امریکا کی سلیکون ویلی میں یہ اجلاس ہو رہا ہے۔ امسالہ سائبر سکیورٹی کانفرنس کے موضوعات ہیں ہیکنگ کے بڑھتے ہوئے حملے اور ان سے بچاؤ کا طریقہء کار، جنگ کا مستقبل، سائبر کی دنیا کے نئے ضوابط اور طریقہ کار، انسداد سائبر دہشت گردی اور اقتصادی شعبے میں سائبر سکیورٹی کی اہمیت۔

اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو نے بات کی جرمن ٹیلی کوم میں ڈیٹا تحفظ کے شعبے کے سربراہ تھوماس کریمر سے۔ ان سے پوچھا کہ اس مرتبہ اس اجلاس کے لیے امریکا کی سلیکون ویلی کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ کریمر نے کہا کہ سلیکون ویلی کی صورت میں ہمیں ایک ایسا میزبان مل گیا ہے، جو سائبر سکیورٹی کے ہر شعبے میں کافی متحرک ہے۔ ’’اسی خطے سے نئے طریقے متعارف کرائے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ سلیکون ویلی میں ماہرین اکھٹے بھی ہوتے رہتے ہیں۔‘‘

کریمر نے مزید کہا کہ سائبر سکیورٹی ایک ایسا شعبہ ہے، جس میں یورپی ضوابط نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی ضرورت ہے،’’اس لیے بہتر ہے کہ اسی جگہ پر ملا جائے، جو پہلے ہی سے ایک طرح کا مرکز ہو۔‘‘ اس سوال کے جواب میں دو سال قبل ہونے والی تیسری سائبر سکیورٹی کانفرنس کا کیا نتیجہ نکلا ہے؟ تھوماس کریمر نے کہا، ’’پہلی سائبر سکیورٹی کانفرنس میں ہم نے کوشش کی کہ اس تاثر کو ختم کیا جائے کہ انٹرنیٹ تحفظ صرف ماہرین کا ہی مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں ہم اس ہدف کو کافی حد تک حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اب عام صارفین کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی کمپنیاں اور کاروباری ادارے بھی سائبر سکیورٹی کو بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔‘‘