1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ہیپاٹائٹس کی وبا کے خلاف اقدامات کی ضرورت ہے، ڈبیلو ایچ او

ہیپاٹائٹس کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس مرض کے وائرس سے متاثر 325 ملین افراد میں سے زیادہ تر کو اس بات کا پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ اس کا شکار ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس کے وائرس سے متاثرہ قریب 325 ملین افراد میں زیادہ تر کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور انہیں زندگی بچانے والی ادویات تک رسائی بھی حاصل نہیں ہے۔

ہیپاٹائٹس کی انفیکشن کے حوالے سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے یہ پہلی عالمی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مرض کے وائرس سے متاثرہ کئی ملین افراد ان خطرات کا شکار ہیں کہ وہ بتدریج جگر کی بیماریوں، کینسر اور قبل از وقت ہلاک ہو جائیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اس مرض کی تشخیص اور علاج کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 2015ء کے دوران ہیپاٹائٹس کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1.34 ملین رہی تھی۔ یہ تعداد ایچ آئی وی کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کے قریب قریب ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق خطرناک بات یہ ہے کہ تپ دق اور ایچ آئی وی کی سبب ہونے والی ہلاکتوں کے مقابلے ہیپاٹائٹس کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2000ء کے مقابلے میں 2014ء میں اس مرض کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں 14 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

ہیپاٹائٹس کے وائرس سے متاثر ہونے کی عام طور پر کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں تاہم اگر ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی کا علاج نہ کیا جائے تو یہ جگر کی خرابی اور کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس مرض سے مبتلا افراد میں عدم آگاہی کے سبب اس وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار بڑھ رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہیپاٹائٹس بی کا وائرس جسمانی فلوئڈز یا سیال، مثلاﹰ خون اور پیشاب کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتا ہے۔ اس وائرس کا شکار ہونے والے محض نو فیصد افراد کو اس میں مبتلا ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

ہیپاٹائٹس سی بنیادی طور پر خون کے ذریعے کسی ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے جبکہ اس سے متاثر ہونے والے محض 20 فیصد افراد ہی اس سے باخبر ہوتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے ویکسین موجود ہے جبکہ ہیپاٹائٹس سی سے بچاؤ کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین تیار نہیں ہو سکی۔