1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیٹی کے زلزلہ متاثرین کی امداد جاری

ہیٹی میں تباہ کن زلزے کے بعد امدادی کام جاری ہیں اور زلزلہ زدگان کی مزید مدد کے لئے دنیا بھر سے اپیلیں بھی ہو رہی ہے۔ اس قیامت خیز زلزلے کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

default

امدادی کارکن ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی مدد کرتے ہوئے

ہیٹی میں منگل کو رکٹر سکیل پر 7.0 کی شدت کے خوفناک زلزے کے بعد قدرتی آفت سے تباہ شدہ اس ملک کے لئے مختلف ممالک اور تنظیموں کی طرف سے امداد کے اعلانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس تباہ کن زلزلے میں ایک لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ تیس لاکھ کے قریب لوگ اس بے رحم قدرتی آفت کے زخم اپنے سینوں میں لئے زندگی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔

Haiti Erdbeben Hilfe aus aller Welt Flash-Galerie

چین کی خصوصی امدادی ٹیم کے اراکین ہیٹی روانہ ہوتے وقت بیجنگ ایئرپورٹ پر

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ہیٹی کی مصبیت زدہ عوام کے ساتھ ہے۔"امریکہ امدادی کارروائیوں میں ہیٹی کی عوام کی بھر پور مدد کرے گا تاکہ ملبے میں دبے ہوئے لوگوں کو نکالا جاسکے اور پانی، خوراک، دوائیوں سمیت دیگر دوسری اشیاء متاثرین تک پہنچائی جا سکیں۔"

تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ امریکہ نے زلزلہ متاثرین کے لئے کسی خاطر خواہ مالی مدد کا اعلان نہیں کیا۔

مشکلات میں گھرے ہیٹی کے لاکھوں متاثرین کی مدد کے لئے اقوامِ متحدہ نے 10 ملین جبکہ یورپی یونین نے 4.4 ملین ڈالرکا اعلان کیا ہے۔ جاپان نے 5 ملین کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے اور ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ وہ بھی 100 ملین ڈالر کی اضافی رقم زلزلے سے تباہ شدہ ہیٹی کو دے گا۔

Haiti Erdbeben Flash-Galerie

قیامت خیز زلزلے کے نتیجے میں ہیٹی میں تباہی کا ایک منظر

جرمنی نے بھی کہا ہے کہ وہ ہیٹی کی مصیبت زدہ عوام کے ساتھ ہے اور زلزے کے متاثرین کے لئے وفاقی جرمن حکومت نے 1.5 ملین یورو کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا:"جرمنی ممکنہ حد تک ہیٹی کے عوام کی مدد کرے گا۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس خوفناک نا گہانی آفت کے متاثرین کو پہچنے والے نقصانات کا ممکنہ ازالہ ہوسکے۔"

Neujahrsansprache Merkel 2009/2010

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

اس کے علاوہ عالمی ادارہ برائے خوراک کی طرف سے 15000 ٹن کی خوراک اور El Salvador کی طرف سے قوی توانائی کے بسکٹ بھی آفت زدہ ہیٹی پہنچائے جارہے ہیں۔’ڈاکٹرز بغیر سرحد‘ نامی تنظیم کیمپوں میں عارضی طبی مراکز قائم کررہی ہے جبکہ بنگلہ دیش سمیت کئی اور ممالک کی میڈیکل ٹیمیں جلد ہی زلزلہ متاثرین کی مدد کے لئے ہیٹی پہنچیں گی۔

اس قدرتی آفت میں کئی افراد ایسے ہیں، جن کا اپنے گھرانوں سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے ’فیملی لنک‘ کے نام سے ایک خصوصی ’ویب پیج‘ تیار کیا ہے، جس کا مقصد بچھڑے ہوئے افراد کے ان کے گھرانوں سے رابطے بحال کرانا ہے۔

تمام امدادی کاموں کے باوجود، ہیٹی میں اب بھی امدادی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں ہسپتال، طبی مراکز، اسکول اور عمارتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہیں۔

اس خوفناک سانحے پر لوگوں کی گریہ و زاری جاری ہے جو اپنے پیاروں کے بچھڑنے پرغم سے نڈھال ہیں اوراس ناگہانی آفت کو سمجھنے سے قاصر۔

صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر ریڈ کراس نے 10 ملین ڈالرکے عطیات کی اپیل کی ہے جبکہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے بھی ہیٹی کےمصیبت زدہ انسانوں کے لئے ایک امدادی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM