1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ہیٹی میں ہیضے سے روزانہ قریب چالیس ہلاکتیں

ہیٹی کے وزیر صحت کے مطابق ملک میں ہیضے کی وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک یہ تعداد 2700 سے زائد ہوچکی ہے جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی ایک لاکھ تیس ہزارتک پہنچ گئی ہے۔

default

ہیٹی میں ہیضے کی وبا کو شروع ہوئے دس ہفتے گزر چکے ہیں۔ ملکی وزیر صحت کے بقول اس مرض سے روزانہ تقریباﹰ 40 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی ماہرین صحت کے مطابق اگر یہی صورتحال بر قرار رہی تو ایک اندازے کے مطابق اگلے ایک سال کے دوران ہیٹی میں ہیضے سے متاثرہ افراد کی تعداد چار لاکھ سے بھی زائد ہو جائے گی۔

Cholera Haiti Symbolbild

ہیضے کی وبا پھیلنے کا سبب آلودہ کھانا اور پانی کا استعمال ہے

اس وبا پر قابو پانے کی کوششوں کے اب تک نا کام رہنے پر ہیٹی کے عوام میں بہت اشتعال پایا جاتا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران ملک کے جنوب مغربی علاقوں میں 40 سے زائد وُوڈُو راہبوں کو یہ وبا شروع کرنے کا ذمہ دار قرار دے کر قتل بھی کیا جا چکا ہے۔ عوامی سطح پر پہلے اس کا شبہ اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل نیپالی فوجی دستوں پر کیا گیا، جس کی وجہ سے ہیٹی میں گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے خلاف پرتشدد مظاہرے بھی کئے گئے تھے۔ تاہم وبائی امراض کے ماہرین کی جانب سے کئے گئے معائنوں کے نتیجے میں یہ دعوے محض الزامات ہی ثابت ہوئے، جس کے بعد توہم پرست عوام کے عتاب کا نشانہ وُوڈُو راہب بننے لگے۔

بحیرہء کریبیین کی جزیرہ ریاست ہیٹی میں ہیضے کی وبا 19 اکتوبر سے پھیلنا شروع ہوئی تھی اور پھر اس بارے میں محدود اور غیر حقیقی معلومات اور وقت پر علاج نہ ہونے کے سبب یہ مرض وبائی صورت اختیار کر گیا۔ ماہرین کے خیال میں آلودہ پانی اور کھانوں کے استعمال سے پھیلنے والے اس وبائی مرض سے ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد سرکاری سطح پر بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس