1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہیٹی میں ملیریا: کئی وُوڈو راہبوں کی ہلاکت

زلزلے سے تباہ شدہ بحیرہ کیربیین کے ملک ہیٹی میں غضبناک اور پریشان عوام نے ملیریا کی وبا پھیلانے کے شبے میں اب تک وُوڈو عقیدے کے کم از کم پینتالیس مرد اور خاتون راہبوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

default

وُوڈو راہب عمل میں مصروف

ہیٹی میں ملیریا کی وبا کے پھیلنےکی وجہ سے اب تک سینکڑوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ عوامی سطح پر پہلے اس کا شبہ اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل نیپالی فوجی دستوں پر کیا گیا۔ ان کے خلاف مظاہرے میں ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔ اب مسیحی عوام کو شک ہے کہ وُوڈو راہب ہیٹی کے دریاؤں میں ایک ایسا سفوف پھینک رہے ہیں، جو ہیضے کا سبب بن رہا ہے۔ اس شبے میں کم از کم پینتالیس راہبوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ان میں مردوں کے علاوہ عورتیں بھی شامل ہیں۔

ان ہلاکتوں کی تصدیق ہیٹی میں وُوڈو عقیدے کی مرکزی کونسل کے سربراہ ماکس بووُوآ (Max Beauvoir) نے اپنے بیان میں کی ہے۔ ان میں سے بیشتر کو تیز دھار آری نما چھرے سے ذبح کیا گیا۔ کئی افراد کو ڈنڈے اور پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ بووُوآ کا اپنے بیان میں یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتی اہلکار اور پولیس ہلاکتوں کے اس سلسلے کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور اس مناسبت سے اپنی ذمہ داریاں بھی صحیح انداز میں نہیں نبھا رہے۔ ہیٹی میں وُوڈو مت کے روحانی سربراہ نے ڈھکے چھپے انداز میں دوسرے مذاہب کے نمایاں افراد پر ان ہلاکتوں کی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق جنوری کے زلزلے کے بعد سے وُوڈو مت کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

BdT Deutschland Einziges Voodoo Museum Europas in Essen

جرمن شہر ایسن کے عجائب گھر میں رکھی وُوڈو لوگوں کی گڑیائیں اور ایک دیوی مامی وتا کی تصویر

اقوام متحدہ کے حکام کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں افواہوں اور قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں اور ان کے ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔ بعض دوسری تنظیموں کا خیال ہے کہ ہیٹی کے عوام کو ہیضے کی بیماری کی مناسبت سے تربیت اور درست معلومات کی فراہمی بہت ضروری ہیں۔

ہیٹی میں ہیضے کی وبا وسط اکتوبر میں شروع ہوئی تھی۔ دس صوبوں میں ڈھائی ہزار لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ماضی میں بحیرہ کیربیین کی اس قوم میں ہیضہ ایک انہونی بیماری تصور کی جاتی تھی۔ برسوں لوگ اس سے بچے رہے تھے۔ یہی سوچ کسی حد تک آج بھی پائی جاتی ہے۔

مغربی افریقی عوام کے قدیمی عقائد اور نظریات نے اب مذہب کی حیثیت اختیار کر لی ہے اور بحیرہ کیربیین کی جزیرہ ریاست ہیٹی میں عوام کی ایک بڑی اقلیت اس کو مانتی ہے۔ ہیٹی کا دستور اس عقیدے کو بطور ایک مذہب کے تسلیم کرتا ہے۔ وُوڈو مت میں مرد راہب ’مان بو‘ کہلاتے ہیں اور خاتون راہبہ کو ’ہُون گان‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس قدیمی مذہب کے سربراہ کو ’اتی‘ کہا جاتا ہے۔ آج اس مقام پر ماکس بووُوآ فائز ہیں۔

بظاہر ہیٹی ایک کیتھولک مسیحی عقیدے والا ملک ہے۔ اس ملک کی تقریباً پچانوے فیصد آبادی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مسیحی عقائد کی حامل ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس