1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیٹی میں تباہ کن زلزلے کا ایک سال مکمل

ہیٹی میں قریب ڈھائی لاکھ انسانوں کی موت کا سبب بننے والے تباہ کن زلزلے کو آج بدھ کو ٹھیک ایک سال ہو گیا ہے۔ بحیرہء کریبیین کی اس جزیرہ ریاست میں ابھی تک امدادی سامان تمام متاثرین کو نہیں پہنچ رہا۔

default

ہیٹی میں گزشتہ برس بارہ جنوری کے روز ریکٹر اسکیل پر سات ڈگری کی شدت سے آنے والا یہ زلزلہ دنیا میں سب سے تباہ کن قدرتی آفات میں سے ایک ثابت ہوا تھا۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں زلزلے کے چند ہفتے بعد تک کے اعداد و شمار کے مطابق دو لاکھ تیس ہزار سے زائد انسان ہلاک ہو گئے تھے، جن میں ملکی دارالحکومت پورٹ او پرانس میں موجود اقوام متحدہ کے 102 کارکن بھی شامل تھے۔

آج سے ٹھیک ایک سال قبل اس طاقتور زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ہیٹی کی حکومت کے ہزاروں کارکن اور سرکاری ملازمین بھی شامل تھے جبکہ اس زلزلے نے ملکی دارالحکومت کا زیادہ تر حصہ مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا اور لاتعداد سرکاری اور نجی عمارتیں نیست و نابود یا قطعی طور پر ناقابل استعمال ہو گئی تھیں۔

اس ہولناک آفت کا ایک سال پورا ہونے کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے نیو یارک میں کہا کہ عالمی برادری کو ہیٹی کے سیلاب زدگان کی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے نئے سرے سے امداد مہیا کرنی چاہیے اور پہلے کے مقابلے میں یہ امداد دوگنا کیے جانے کی ضرورت ہے۔

Flash-Galerie Haiti Wiederaufbau

ہیٹی کے صدر کے ہمراہ کلنٹن اور بُش

بان کی مون نے کہا کہ اس زلزلے کے بعد ہیٹی میں عالمی ادارے کے کارکنوں نے جس ہنگامی امدادی پروگرام کا آغاز کیا، وہ اس ادارے کی تاریخ کے سب سے بڑے امدادی منصوبوں میں سے ایک تھا۔ انہوں نے کہا کہ کئی ملین متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور تعمیر نو کے کاموں کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے کی جانے والی یہ کوششیں آج بھی جاری ہیں۔

پورٹ او پرانس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہیٹی میں آج اس زلزلے میں جان بحق ہونے والے ایک چوتھائی ملین انسانوں کی یاد تازہ کی جا رہی ہے اور سب سے بڑی یادگاری تقریب ملکی دارالحکومت کے اسی زلزلے میں تباہ ہو جانے والے کیتھولک کیتھیڈرل کی باقیات میں منعقد کی جائے گی، جس میں شہریوں کی بہت بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔

Flash-Galerie Haiti Ein Jahr nach dem Erdbeben

ہیٹی میں زلزلے کے بعد فضائی منظر

یہ زلزلہ بارہ جنوری 2010 کے روز صبح چار بجکر 53 منٹ پر آیا تھا۔ اس تباہی کے بعد ہیٹی میں بین الاقوامی امدادی کارروائیوں کو منظم کرنے میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا تھا، جو اس ہولناک قدرتی آفت کی پہلی برسی کے موقع پر اس وقت ایک بار پھر ہیٹی میں ہیں۔ منگل کے روز ہیٹی پہنچنے پر بل کلنٹن نے کہا کہ انہیں ہیٹی میں متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے کاموں کے حوالے سے سست رفتاری پر بڑی نا امیدی ہوئی ہے۔ تاہم بل کلنٹن کے بقول، ’یہ امر اپنی جگہ خوش کن ہے کہ ہیٹی میں گزشتہ ایک سال کے دوران بہت کچھ کیا جا چکا ہے۔‘

اسی دوران یورپی یونین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بحیرہء کریبیین کے ملک ہیٹی میں گزشتہ برس آنے والے زلزلے کے ایک سال بعد بھی وہاں تعمیر نو کا عمل اور سیاسی استحکام کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہیں۔ ’’اس زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہو جانے والے کئی ملین انسانوں میں سے لاکھوں ابھی بھی عارضی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔‘‘ ترقیاتی امداد اور انسانی بنیادوں پر مدد سے متعلقہ امور کے نگران یورپی یونین کے کمشنروں نے اس موقع پر کہا ہے کہ ہیٹی میں عدم استحکام کی سبب متاثرین کے لیے مہیا کی جانے والی امداد تاحال پوری طرح اور تمام ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ رہی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس