1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیٹی میں امدادی سرگرمیوں میں تیزی

ہیٹی میں زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ طبی امداد کی فراہمی میں بھی بہتری کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں۔

default

روسی امدادی ٹیم پورٹ و پرانس میں ملبے تلے دبے انسانوں کو نکالنے اور نیست و نابود ہو جانے والے اس علاقے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہے۔ گزشتہ دو صدیوں کے اس بدترین اور سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصانات کا باعث بننے والی قدرتی آفت کو نو دن گزر گئے ہیں، کیا اب بھی ملبوں کے نیچے دبے مزید انسان زندہ نکالے جا سکیں گے، اس اُمید کی کرن قدرے مدھم ہو چکی ہے۔

حال ہی میں البتہ دو بچوں اور ایک ستر سالہ خاتون کو ملبوں کے نیچے سے زندہ حالت میں نکالا گیا۔ ان سے پہلے دو بالکل چھوٹے بچے ایک ہفتے تک بھوکے پیاسے زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد ملبے کے نیچے سے نکالے گئے تھے۔ ایک جرمن امدادی دستے کے کارکن Tim Poluzyn کہتے ہیں: ''کوئی یورپی باشندہ شاید ہی اتنے روز کی بھوک پیاس اور بے بسی سہہ کر زندہ بچتا۔ جو لوگ پیٹ کی آگ اور آب کی تڑپ کے عادی ہوتے ہیں ان کے لئے غالباً اتنی کڑی صعوبت جھیل کر بھی زندہ بچ جانا ممکن ہوتا ہے''

Haiti Erdbeben Opfer Zerstörung Port au Prince

ہیٹی کے زلزلے کو گزشتہ دو صدیوں میں سب سے زیادہ انسانی جانوں کی ہلاکت کا باعث بننے والی قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے

اقوام متحدہ نے پورٹ او پرانس شہر کو انتظامی طور پر کئی حصوں میں بانٹ دیا ہے اور ہر حصے میں امدادی ٹیمیں اب بھی بچ جانے والوں کی تلاش میں سر گرداں ہیں۔ دریں اثناء ہیٹی کی انتظامیہ نے تباہ شدہ دارلحکومت پورٹ او پرانس سے ہزاروں بے گھر افراد کو شہر کے باہر منتقل کرنے کا ایک بڑا آپریشن شروع کردیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بارہ جنوری کے بھیانک زلزلے نے پانچ لاکھ افراد کے سر سے چھت اور پیروں تلے سے زمین چھین لی ہے۔ ہیٹی کی حکومت پورٹ او پرانس کے مضافات میں نصب کئے گئے خیموں میں متاثرین کو رہائش فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہیٹی انتظامیہ نے درجنوں بسوں کے ذریعے زلزلہ متاثرین کو کیریبین کے جنوب اور شمالی علاقوں تک منتقل کرنے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔

دریں اثناء امریکہ، کینیڈا، برازیل، فرانس، ہیٹی، اور یوروگوائے کے مندوبین نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں خصوصی ملاقات کی جس میں ناگہانی آفت سے تباہ ہوجانے والے ہیٹی کے باشندوں کی مؤثرامداد کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ ان ممالک نے امید ظاہر کی کہ دیگر ممالک بھی بڑھ چڑھ کر امدادی کاموں میں حصہ لیں گے۔ تباہ شدہ مکانوں کی تعمیر کا کام کرنے والے ایک فلاحی ادارے ’Habitat for Humanity ‘ نے ایک منصوبے کے تحت ایک کمرے کے ہزاروں مکانات تعمیر کرنے کا پلان پیش کیا ہے۔ اس ادارے کے چیف ایگزیکٹیو Jonathen Reckford کے مطابق اسٹیل کے فریم سے تیار کردہ ’ون روم ہوم‘ یا ایک کمرے کے ان گھروں کی تعمیر میں جیسے جیسے وسائل میسر ہوں گے ویسے ویسے کمروں کی تعداد بڑھائی جا سکے گی۔ ایک کمرے کے گھر میں پانی کا ایک ٹینک اور ایک لیٹرین موجود ہوگا اور اس کی قیمت تقریباً تین ہزار ڈالر ہوگی۔ کمروں کے اضافے سے یہ قیمت پانچ ہزارڈالر تک ہو جائے گی۔

ہیٹی کے صدر Rene Prevel نے حکومت پر کی جانے والی اس تنقید کو رد کر دیا ہے کہ اتنی زیادہ شدت کے زلزلے اور اس سے آنے والی تباہی کے بعد بچاؤ کی کوششوں اور مؤثر کارروائیوں کے معاملے میں حکومت نے کوتاہی برتی۔ انہوں نے کہا کہ اتنے کٹھن حالات میں بھی ان کی انتظامیہ نے ممکنہ اقدامات کئے اور اب صورت حال پر قابو پانے کے لئے حالات کافی حد تک ساز گار نظر آ رہے ہیں۔

رپورٹ : کشور مصطفیٰ

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM