1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیٹی میں اقوام متحدہ کے امن دستوں پر پتھراؤ

ہیٹی میں ہیضے کی وباء پھیلنے پر مظاہرین کا پولیس اور اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ تصادم کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف امریکی طبی حکام نے وباء کے مزید پھیلاؤ سے خبردار کیا ہے۔

default

ہیٹی میں ان مظاہروں کے نتیجے میں کم ازکم تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں

جمعرات کو ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرانس میں زلزلہ متاثرہ مظاہرین نے ہیضے کے پھیلاؤ کو مناسب طریقے سے روکنے میں ناکامی پر احتجاج کیا۔ اس دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اطلاعات کے مطابق مشتعل مظاہرین نے پولیس اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں پر پتھر برسائے اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ مقامی ذارئع ابلاغ کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔ پیر کو ایسے ہی مظاہروں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کئی مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ وباء اقوام متحدہ کے امن مشن میں موجود کچھ لوگوں کی وجہ سے پھیلی ہے جبکہ اقوام متحدہ اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتی ہے۔ ہیٹی حکومت کے مطابق یہ تازہ مظاہرے ایک منصوبہ بندی کے تحت کروائے جا رہے ہیں، جن کا مقصد سیاسی انتشار پیدا کرنا ہے۔ حکام کے مطابق ان مظاہروں کا مقصد اٹھائیس نومبر کو منعقد ہو رہے صدارتی انتخابات میں خلل ڈالنا ہے۔

Haiti Erdbeben Blauhelme in Port-au-Prince

کئی مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ وباء اقوام متحدہ کے امن مشن میں موجود کچھ لوگوں کی وجہ سے پھیلی ہے

ہیٹی میں اب تک اس وباء کے نتیجے میں کم ازکم گیارہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اندازوں کے مطابق کوئی اٹھارہ ہزار افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ ہیضے کا پہلا کیس انیس اکتوبر کو رپورٹ ہوا تھا۔ اگرچہ ہیٹی حکومت نے اس سے نمٹنے کے لئے فوری طور پر ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی تاہم یہ وباء مزید پھیل رہی ہے۔ اس وقت یہ وباء ہیٹی بھر میں پھیل چکی ہے، جس کی وجہ سے اقوام متحدہ نے سنگین خطرات سے خبردار کیا ہے۔

ہیٹی میں عوام اس مہلک بیماری کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں رکھتے ہیں جبکہ زلزلے سے تباہ حال اس ملک میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بھی کافی تشویشناک ہے، جس کی وجہ سے اس وباء کے مزید پھیلنے کے خدشات بہت زیادہ بیان کئے جا رہے ہیں۔ امریکی طبی ماہرین کے مطابق عارضی پناہ گاہوں میں مقیم کئی لاکھ افراد پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کے بنیادی نظام سے محروم ہیں، جو اس وباء کے پھیلنے کے اہم محرکات ثابت ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس