1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیٹی، زلزلے کی تباہی کے بعد کا بحران

بحیرہ کیریبین کی ریاست ہیٹی میں زلزلے کو آئے سو سے زائد گھنٹے گزرنے کے بعد بھی صورتحال انتہائی حد تک ناگفتہ ہے۔

default

زلزلے کو آئے پانچ دن گزرگئے مگر ملبے سے لاشوں کے نکلنے کا سلسلہ ہے کہ رک ہی نہیں رہا۔ اگرچہ عالمی برادری کی جانب سے رضاکاروں اور امدادی سامان کی آمد نے کسی حد تک متاثرین کی بحالی کا کام شروع کردیا ہے تاہم حکومتی نظام تباہ ہونے کے باعث بہت سے لوگ اب بھی خوراک اور ادویات کے لئے تڑپ رہے ہیں۔

ہیٹی میں موجود اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی میں اتنے بڑے پیمانے پر تباہی اس سے قبل نہیں دیکھی۔ ہیٹی کے مقامی وقت کے مطابق ہفتے کے روز ملبے تلے دبے بارہ مزید زندہ افراد کو نکالا گیا۔

Haiti - gerettetes Kind nach Erdbeben

اسپینش رضاکارووں نے زلزلے کے دو دن بعد اس بچے کو ملبے کے نیچے سے نکالا تھا

تباہی کس قدر ہلاکت خیز تھی اس بارے میں صورتحال آہستہ آہستہ واضح ہورہی ہے۔ منگل کو آنے والے زلزلے کا مرکز اگرچہ دارالحکومت پورٹ اوپرنس تھا تاہم محض مغربی قصبے لیوگانی میں بیس تا تیس ہزار ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اب تک مجموعی ہلاکتوں کی جس تعداد پر ہیٹی کی حکومت اور اقوام متحدہ نے اتفاق کیا ہے وہ پچاس ہزار ہے۔

اقوام متحدہ کی رابطہ کار ایلزبتھ بائرز کے بقول امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا گیا اور اب بھی بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے جو ممکنہ طور پر ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول مشکلات کے باوجود رضا کاروں کا جوش و جذبہ بلند ہے اور اب تک ستر زندہ افراد کو محض ایک ٹیم نے ملبے سے نکالا ہے۔

عینی شاہدین کے بقول جو بھی عالمی امداد ہیٹی پہنچ رہی ہے وہ اس قدر بدنظمی سے تقسیم ہورہی ہے کہ اب بھی بعض علاقوں میں لوگ پینے کے پانی اور معمولی بسکٹ کے پیکٹس کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ رضا کار صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہیں اور کسی منظم طریقہ ء کار کے بجائے امداد کو مجمع کی جانب اچھال دیتے ہیں، بھگدڑ کی صورت میں متاثرین اس پر جھپٹ پڑتے ہیں جس سے امداد ضائع بھی ہوجاتی ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کے عہدیدار Alejandro Lopez Chicheri کے بقول سجھنے کے بات یہ ہے کہ یہ ملک تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، امداد تقسیم کرنے میں شدید مشکلات ہیں جبکہ متعدد علاقوں میں سڑکیں سفر کے بالکل قابل نہیں بچی۔

Afrika: Ban Ki-Moon beim African Union Summit

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون آج اتوار کو ہیٹی پہنچ رہے ہیں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون آج اتوار کو متاثرہ ہیٹی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ امدادی کاموں کا جائزہ لیں گے۔ کل پیر کو امریکی نیوی کے تازہ دم دستوں کی آمد کے بعد ہیٹی میں امریکی افواج کی مجموعی تعداد دس ہزار تک پہنچ جائے گی۔

انسانی تاریخ کے خوفناک ترین زلزلوں میں سے ایک قرار دئے گئے زلزلہ ء ہیٹی کے ہزاروں متاثرین میں طبی اور خوراکی امداد کے لئے شدید بے تابی پائی جارہی ہے۔ دارالحکومت پورٹ اوپرنس کی سڑکوں پر جگہ جگہ بورڈز نظر آرہے ہیں جن پر Help لکھا گیا ہے اور متاثرہ عمارات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان