1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ہیٹنگ کے لیے کوئلوں کا استعمال، بچوں کی نشو و نما پر منفی اثرات

عام گھروں کو سردیوں میں گرم رکھنے کے لیے کوئلوں کے استعمال سے چھوٹے بچوں کی جسمانی نشو و نما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

default

ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کوئلے استعمال کرنے والے گھرانوں میں تین سال کی عمر تک کے بچے قد میں اپنے ہم عمر دوسرے بچوں کے مقابلے میں 1.3 سینٹی میٹر چھوٹے رہ گئے۔

امریکہ کی کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ایک ماہر راکیش گھوش اور ان کے ساتھیوں کی ایک نئی ریسرچ کے مطابق ہیٹنگ کے لیے کوئلوں کے استعمال سے ایسے تین سال تک کی عمر کے بچوں کی جسمانی صحت کے علاوہ ان کا قد کاٹھ بھی متاثر ہوا۔ اس تحقیق کے نتائج ابھی حال ہی میں ایک طبی جریدے میں آن لائن شائع کیے گئے۔

چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں ایک طبی تحقیقی ادارے سے تعلق رکھنے والے محقق رادیم سرام کا کہنا ہے کہ جب ماں باپ اپنے گھر کو گرم رکھنے کے لیے ٹھوس ایندھن استعمال کرتے ہیں، تو ان کے بچوں کی صحت کو یقینی طور پر نقصان پہنچتا ہے۔

Bergbau Kentucky

چیک جمہوریہ میں اس ریسرچ کے لیے رادیم سرام اور ان کے ایک ساتھی محقق میروسلاو ڈوسٹل نے دو مختلف بلدیاتی علاقوں میں دس سال سے بھی زیادہ عرصے تک 1133 بچوں کی صحت اور جسمانی نشو و نما کا قریبی مشاہدہ کیا۔ یہ بچے 1994 اور 1998 کے درمیانی عرصے میں پیدا ہوئے تھے۔

یہ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ جو بچے اپنی پیدائش کے دن سے ہی کوئلوں والی ہیٹنگ کے ماحول میں پلے بڑھے، ان کی صحت پر کوئلے کے دھوئیں اور دیگر زہریلے مادوں کے منفی اور مضر صحت اثرات بہت نمایاں تھے۔

ماہرین کے بقول یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ کوئلوں کے ذریعے اسی ہیٹنگ نے ان بچوں کی صحت کو اس وقت بھی متاثر کیا جب ان کی مائیں حاملہ تھیں اور وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ پیدائش کے وقت ایسے بچوں کا جسمانی وزن دیگر بچوں سے کافی کم تھا۔

چیک اور امریکی طبی ماہرین کے بقول ایسے بچوں میں سانس کی نالیوں، پھیپھڑوں اور دیگر جسمانی اعضاء میں پیدا ہونے والی اکثر بیماریوں کا باعث وہ زہریلی گیسیں بنیں جو کوئلوں کے جلنے سے پیدا ہوتی ہیں اور PAH کہلاتی ہیں۔ یہ گیسیں اس وقت انتہائی مضر ہوتی ہیں جب ان کے ساتھ پاؤڈر نما باریک ذرات بھی شامل ہوں، جو پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ: سائرہ حسن

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس