1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے اپنے ہی جنگجو کو قتل کرنے پر حماس کی مذمت

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنے ہی ایک جنگجو ساتھی کو سزائے موت دیے جانے پر فلسطینی گروپ حماس کی مذمت کی گئی ہے۔ حماس کے ملٹری وِنگ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس جنگجو کو اتوار کے روز ہلاک کیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق غزہ پٹی پر حکمران ‌حماس کے مسلح وِنگ القسیم بریگیڈ کی طرف سے بتایا گیا کہ اس نے اپنے ایک رُکن کو اتوار کے روز قتل کیا۔ اس معاملے کے بارے میں معلومات رکھنے والے ایک ذریعے کے مطابق قتل کیا جانے والا حماس کا ایک سینیئر اہلکار تھا جس پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام تھا۔

بریگیڈ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ’’القسیم بریگیڈ اعلان کرتی ہے کہ اس کے رکن محمود ایشتاوی کو سنائی گئی موت کی سزا پر آج عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔‘‘

اسرائیل اور فلسطین کے لیے ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر سری باشی نے اس اعلان پر اپنے ردعمل میں اسے ’حماس کی طرف سے ایک اور ماورائے عدالت قتل‘ قرار دیا۔ باشی کے مطابق، ’’اگر حماس واقعی فلسطینی لوگوں کے حقوق کے تحفظ کا خیال رکھتی ہے تو وہ کسی بھی فلسطینی کی قانون اور انصاف کے طریقہ کار سے ہٹ کر اس کو ہلاک کرنے والوں کو سزا دے گی۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس طویل عرصے سے اکثر بغیر شفاف قانونی عمل کے جاسوسی کے الزام میں لوگوں کو ہلاک کرتی رہی ہے۔ تاہم القسیم کی طرف سے یہ بظاہر پہلا موقع ہے کہ اس نے خود سے ہی کورٹ مارشل کر کے کسی کو ہلاک کیا ہے۔

2016ء کے آغاز سے اب تک غزہ کے چار باشندوں کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے موت دی جا چکی ہے

2016ء کے آغاز سے اب تک غزہ کے چار باشندوں کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے موت دی جا چکی ہے

القسیم بریگیڈ کی طرف سے ایشتاوی کے خلاف الزامات کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی سوائے اس کے کہ ’’بریگیڈ کی ملٹری اور جوڈیشل کمیٹی نے یہ سزا اس لیے دی ہے کہ انہوں نے قواعد اور اخلاقیات کی خلاف ورزی کی‘‘۔

ذرائع کے مطابق ایشتاوی کی ذمہ داریوں میں ان سرنگوں کی نگرانی بھی شامل تھی جو قبل ازیں ہتھیاروں کے ذخیرے اور اسرائیل کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔ اے ایف پی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ ایشتاوی ایک بڑے یونٹ کے انچارج تھے اور قبل ازیں وہ القسیم کے سربراہ محمد ضیف کے کافی قریب رہے ہیں۔ محمد ضیف مبیبہ طور پراسرائیل کی طرف سے قتل کی کئی کوششوں کا ہدف رہے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق 2016ء کے آغاز سے اب تک غزہ کے چار باشندوں کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے موت دی جا چکی ہے۔