1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ہیملٹن کی جیت، مصباح کی حمایت میں اضافہ

ہیملٹن ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف تاریخی سیریز جیتنے کے لئے پر عزم ہے۔ کچھ سابق کرکٹرز مصباح الحق کو عالمی کپ کے لئے بھی کپتان بنانے کی وکالت کر رہے ہیں۔

default

ہیملٹن ٹیسٹ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف دو طرفہ ٹیسٹ تاریخ کی23 ویں کامیابی حاصل کی۔ پاکستانی ٹیم کے مینیجر انتخاب عالم نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فتح کا سہرا کوچ وقار یونس اور کپتان مصباح الحق کے سر باندھا۔

مصباح الحق کی بطور کپتان پانچویں اننگز میں یہ چوتھی نصف سینچری تھی جس نے ٹیم کو بحران سے نکالا تھا۔ انتخاب عالم نے بتایا کہ کوچ نے کیمپ میں فزیکل فٹنس پر زور دیا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے مصباح کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود کاکردگی دکھانے کے ساتھ ٹیم کو بھی جیت کے بہترین کھیل پیش کرنے پر تیار کیا۔ ان کے بقول، ’’ہمارے ٹیل اینڈرز تک سب نے فائٹ کی اور قوم کو نئے سال کا تحفہ دیا۔‘‘

1978-79 میں پاکستان کو نیوزی لینڈ کی سر زمین پر ٹیسٹ سیریز جتوانے میں اہم کردار ادا کرنے والے سابق فاسٹ باﺅلر سکندر بخت غیر معمولی حالات میں اسے غیر معمولی کامیابی قرار دیتے ہیں۔

Shahid Afridi

شاہد خان آفریدی

سکندر بخت کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ نیوزی لینڈ کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر ہرانا آسان ہے، ’’ وہاں کی وکٹیں مشکل ہوتی ہیں اس لئے پوری ٹیم تحسین کی مستحق ہے۔‘‘ سکندر بخت کے بقول، ’’ ٹیسٹ کے تیسرے دن کی یہ جیت ایک ایسے وقت میں ملی ہے جب ہماری ٹیم کے سرکردہ کھلاڑیوں کے خلاف میچ فکسنگ کی سماعت ہو رہی ہے۔ یہ ملکی کرکٹ کے لئے اچھی علامت ہے ۔اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ موجود ہے مگر اسے صحیح استعمال نہیں کیا جاتا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ سلیکٹرز کو روٹیشن پالیسی اپنانی چاہیے، ’’جس طرح عبد الرحمن کو سعید اجمل کی جگہ موقع ملا اور وہ مین آف دی میچ بن گئے۔ تنویر احمد نے خود کو منوایا۔ سلیکٹرز کو آئندہ محض عمر کی بجائے کھلاڑیوں کی کاکردگی بھی دیکھنی چاہیے۔

پاکستان اور بلیک کیپس کے درمیان سیریز کا دوسرا اور فیصلہ کن ٹیسٹ سنیچر سے بیسن ریزر و گراونڈ ویلنگٹن میں کھیلا جائے گا۔ پاکستانی کرکٹرز نے 2006ء میں ویسٹ انڈیز کو ہوم سیریز ہرانے کے بعد سے کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی۔

نیوزی لینڈ کے دارالحکومت ویلنگٹن میں پاکستان کا ریکاڑد ناقابل شکست ہے اس لئے مینیجر انتخاب عالم کے مطابق اب پانچ برس کا صبر آزما انتظار ختم ہونے کو ہے۔ انتخاب عالم نے بتایا کہ اب فتح کے بعد ٹیم کا مورال بلند ہے، ’’ ہم نے گز شتہ برس بھی نیوزی لینڈ کو ویلنگٹن میں ہرایا تھا اور اب بھی طویل عرصے بعد سیریز جیتنے کا موقع ضائع نہیں کریں گے۔‘‘

Neuseeland Cricket Mannschaft

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز کا دوسرا میچ ویلنگٹن میں کھیلا جائے گا

پہلے ٹیسٹ میں شاندار فتح کے بعد اگلے ماہ شروع ہونے والے عالمی کپ کے لئے شاہد آفریدی کی جگہ مصباح الحق کو پاکستانی ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ آفریدی کی قیادت میں ٹیم آٹھ میں سے سات سیریز ہار چکی ہے۔ سکندر بخت بھی اس تبدیلی کے طرفداروں میں شامل ہیں۔

سکندر کے مطابق آفریدی جب کپتان نہیں تھے تو انہوں نے پاکستان کو انگلینڈ میں ٹوئنٹی20 عالمی کپ جتوایا مگر کپتان بننے کے بعد ان کی کارکرگی متاثر ہوئی اس لئے انہیں قیادت سے الگ ہو جانا چاہیے۔ ’’ہمارے ہاں کپتان کو فرنٹ سے لیڈ کرنا ضروری ہے۔اس لئے مصباح الحق کو عالمی کپ میں کپتان مقرر کر دینا چاہے جو ٹیسٹ میچ کا پریشر پہلے ہی لے چکا ہے۔‘‘

عالمی کپ میں شرکت کرنے والی ٹیموں کے حتمی 15کھلاڑیوں اور کپتانوں کے اعلان کے لئے آئی سی سی نے 19جنوری کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے۔

رپورٹ: طارق سعید، کراچی۔

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM