1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیلموٹ کوہل بعد از مرگ بھی جرمن سے زیادہ یورپی ٹھہرے

سولہ جون کو وفات پا جانے والے سابق جرمن چانسلر ہیلموٹ کوہل کی یاد میں یورپی یونین کی اولین ’سرکاری تعزیتی تقریب‘ ہفتہ یکم جولائی کے روز ہوئی، جس میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے نامور سیاسی رہنما اسٹراسبرگ پہنچے تھے۔

ہیلموٹ کوہل نے یورپی اتحاد کے عمل میں بھی بے مثال خدمات انجام دی تھیں اور متحد یورپ کے وہ ایسے پہلے لیڈر بھی بن گئے ہیں، جن کے انتقال پر یورپی یونین کی طرف سے سرکاری طور پر ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

کوہل کی آخری رسومات سے قبل آج ہفتے کے روز ان کی یاد میں یورپی یونین کی مرکزی تعزیتی تقریب فرانسیسی شہر اسٹراسبرگ میں ہوئی، جو یورپی پارلیمان کے دو میزبان شہروں میں سے ایک ہے۔

ہیلموٹ کوہل کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دنیا بھر سے کئی سابق اور موجودہ حکمران شخصیات اسٹراسبرگ پہنچی تھیں۔ انہیں خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل، یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر، فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں، روسی وزیر اعظم دیمتری میدویدیف اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن بھی شامل تھے۔

یورپی کمیشن کے صدر یُنکر نے کہا کہ جرمنی کے ساتھ سرحد پر واقع فرانسیسی شہر اسٹراسبرگ میں ہیلموٹ کوہل کی یاد میں مرکزی تعزیتی تقریب کا اہتمام انہی کی خواہش پر کیا گیا۔ یُنکر کا کوہل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کوہل نہ صرف جرمنی بلکہ یورپ سے بھی بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔

اس موقع پر موجودہ جرمن چانسلر میرکل نے کہا ہے کہ اگر ہیلموٹ کوہل نہ ہوتے، تو خود میرکل کی زندگی شاید ان کی موجودہ زندگی سے بالکل مختلف ہوتی۔ میرکل نے کہا، ’’ہیلموٹ کوہل کے بغیر (اس دور میں) دیوار کے دوسری طرف رہنے والے کئی ملین جرمنوں کی زندگیاں (آج) بالکل مختلف ہوتیں۔‘‘ دیوار سے میرکل کی مراد دیوار برلن تھی۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے کوہل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تمام یورپی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ کوہل کو اپنی زندگی کے لیے نمونہ بنائیں، ’’ہم ابھی بھی ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور متحد رہتے ہوئے ترقی کر سکتے ہیں۔‘‘

سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہیلموٹ کوہل سے محبت کرتے تھے، ’’ہیلموٹ کوہل نے ہمیں اپنی ذات سے بڑا مقصد دیا۔ کوہل قومی مفاد سے ہٹ کر بین الاقوامی تعاون کی خواہش رکھتے تھے۔‘‘

روسی وزیر اعظم دیمتری میدویدیف نے ہیلموٹ کوہل کے روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی کے اس سابق چانسلر کے لیے روس ایک متحدہ یورپ کا حصہ ہوتا، ’’کوہل کے لیے خاردار تاروں کے بغیر روس گھر ہی کا حصہ تھا۔‘‘

اسی طرح دنیا بھر سے آئی ہوئی بہت سی دیگر سیاسی شخصیات نے بھی انتہائی محبت بھرے الفاظ میں ہیلموٹ کوہل کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اسٹراسبرگ میں ہونے والی اس تعزیتی تقریب میں تقریباﹰ آٹھ سو سرکردہ شخصیات شریک ہوئیں۔ اس تقریب کے بعد کوہل کا ایک تابوت میں بند جسد خاکی اب جرمن شہر اسپیئر پہنچا جا رہا ہے، جہاں آج ہفتے کی شام انہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا جائے گا۔

DW.COM