1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیلری کلنٹن کا دورہ جاپان

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن تباہ کن زلزلے اور سونامی سے متاثر جاپانی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ٹوکیو پہنچ گئی ہیں۔

ہلیری کلنٹن

ہلیری کلنٹن

ہلیری کلنٹن آج اتوار 17 اپریل کو ٹوکیو جاپان پہنچیں۔ کئی گھنٹوں پر مشتمل اس دورے کے دوران وہ جاپانی وزیراعظم ناؤتوکان، بادشاہ آکی ہیٹو اور ملکہ کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گی۔

ہلیری کلنٹن کے دورہ جاپان کا مقصد تعمیر نو کے کاموں میں مصروف جاپانی قوم کا مورال بلند کرنا ہے۔ وہ آج اتوار ہی کے روز واپس واشنگٹن لوٹ جائیں گی۔

جاپان میں 11 مارچ کے زلزلے اور سونامی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ ان حالات میں امریکہ کی طرف بڑے پیمانے پر جاپان کی مدد کی جارہی ہے۔ قریب 20 ہزار کے قریب امریکی فوجی جدید ساز وسامان کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

فوکوشیما جوہری پلانٹ کے بحران پر قابو پانے کے لیے امریکی ماہرین بھی مدد کررہے ہیں

فوکوشیما جوہری پلانٹ کے بحران پر قابو پانے کے لیے امریکی ماہرین بھی مدد کررہے ہیں

زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے کے بعد بحران کے شکار فوکوشیما ڈائچی جوہری پاور پلانٹ میں حالات پر قابو پانے کے لیے امریکی جوہری ماہرین بھی جاپانی ماہرین کی مدد کررہے ہیں، جبکہ متاثرہ پلانٹ کے ٹھنڈا کرنے کے لیے بھی امریکہ کی طرف سے سازوسامان فراہم کیا گیا ہے۔

واشنگٹن حکومت کو یقین ہے کہ اس کی طرف سے جاپان کے لیے وسیع پیمانے پر فراہم کی جانے والی یہ امداد جسے ’آپریشن ٹوموداچی‘ یعنی دوستی کا نام دیا گیا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور اتحاد کو مزید مضبوط کرے گا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے جاپان کے ایک جنوبی جزیرے اوکیناوا پر موجود امریکی اڈہ کافی عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔

ہلیری کلنٹن کے ساتھ جاپان کا دورہ کرنے والے ایک سینیئر امریکی اہلکار کے مطابق:’’نئی جاپانی نسل کے نزدیک امریکہ کی ان کے ملک میں موجودگی اور اس کا کردار ایک ایسی چیز ہے، جس کا فیصلہ انہوں نے نہیں کیا۔ وہ اسے ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔‘‘ اس امریکی اہلکار کے مطابق زلزلے اور سونامی کی وجہ سے پھیلنے والی تباہی کے دوران امریکی فوج کے کردار سے جاپان میں امریکہ کے بارے میں پائی جانے والی یہ سوچ تبدیل ہوئی ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس