1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیضے کی وباء، صنعا میں ہنگامی حالت نافذ

یمنی دارالحکومت کی اتھارٹی نے ہیضے کی وباء کے نتیجے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ حوثی باغی سن دو ہزار پندرہ سے یمن کے اس اہم شہر پر قابض ہیں جبکہ سعودی عسکری اتحاد صنعاء کی بازیابی کی خاطر فوجی کارروائی میں مصروف ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے صنعاء میں حوثی باغیوں کے وزیر صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیضے کے کیسز میں انتہائی تیزی سے اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے جبکہ انتظامیہ اس وباء سے نمٹنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔

حوثی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں اس صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے عالمی برداری سے مدد کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ باغیوں نے ہیضے کی وباء کو ایک بحرانی صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری ایکشن ناگزیر ہو چکا ہے۔

جنگ، بھوک اور در بدری کے بعد اب ہیضہ بھی، یمنی شہری بے حال

صنعاء کنگال ہو گیا، بچے بھیک مانگنے پر مجبور

شامی اور یمنی تنازعے پاکستان میں نظریاتی تقسیم کو ہوا دے رہے ہیں؟

حوثی باغیوں کے وزیر صحت حافظ بن سلیم محمد نے کہا ہے کہ صنعاء میں ہیضے کی وباء کی تباہی کا پیمانہ شدید ہے اور ان کی انتظامیہ اس بحران سے اکیلے نہیں نمٹ سکتی ہے۔ حوثی باغیوں کے ایک ٹیلی وژن چینل پر انہوں نے کہا کہ اس وباء کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے عالمی برداری کو اپنی ذمہ داری نبھانا چاہیے۔

بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے اتوار کے دن بتایا تھا کہ ستائیس اپریل سے اب تک صنعاء میں ہیضے کی وباء کی وجہ سے 115 افراد ہلاک جبکہ تقریبا ساڑھے آٹھ ہزار بیمار ہو چکے ہیں۔

یمن میں فعال بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھیں کیونکہ یمن میں ہیضے کی وباء شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بھی خبردار کیا ہے کہ یمن میں طبی ادارے اس وباء سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتے، اس لیے عالمی اداروں کو زیادہ کردار ادا کرنا پڑے گا۔

یمن میں سن دو ہزار پندرہ سے خانہ جنگی جاری ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران حوثی باغیوں کی کارروائیوں اور سعودی عسکری کارروائی کے نتیجے میں اس عرب ملک میں آٹھ ہزار سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس ملک میں پانچ لاکھ سے زائد بچے کم خوراکی کا شکار ہیں جبکہ یہ ملک قحط کے دہانے پر آن پہنچا ہے۔

اس بحران کی وجہ سے یمن میں بنیادی شہری ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق اس خانہ جنگی کے بعد کئی شہروں میں طبی مرکز، اسکول اور دیگر کئی حکومتی ادارے بھی غیر فعال ہو چکے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:06

یمنی خانہ جنگی کی تباہ کاریاں

DW.COM

Audios and videos on the topic