1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیرو کی بیٹی کی شاندار کامیابی

میانمار میں حزب اختلاف رہنما آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی انتخابی کامیابی کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ ملکی الیکشن کمیشن کے مطابق این ایل ڈی نے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔

میانمار کے الیکشن کمیشن کے مطابق نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے 348 نشستیں حاصل کر لیی ہیں اور نتائج آنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ملکی پارلیمان میں کل ارکان کی تعداد 664 ہے۔ اس نتیجے کا مطلب ہے کہ میانمار کا اگلا صدر این ایل ڈی کا من پسند امیدوار ہو گا۔ ساتھ ہی قریب پانچ دہائیوں کی فوجی حکمرانی کے بعد اب یہ ملک پر امن انداز میں جمہوریت کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات کے ساتھ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے اپنی فتح کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر کے باعث سوچی نے ملکی صدر اور الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔

آنگ سان سوچی برما کے ایک قومی ہیرو آنگ سانگ کی بیٹی ہیں۔ ان کے والد برما کی آزادی دیکھ نہیں سکے تھے، 1947ء میں وہ ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

Myanmar Wahlen Aung San Suu Kyi Porträt Fächer Yangon

ستر سالہ سوچی ملکی آئین میں موجود ایک شق کی وجہ سے ملکی صدر نہیں بن سکتیں

آنگ سان سوچی انتخابات سے قبل یہ عندیہ بھی دے چکی ہیں وہ فوج سے کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتیں۔ انہوں نے ملکی صدر تھین سین اور فوجی سربراہ منگ آنگ کےساتھ مفاہمتی مذاکرات کا بھی اعلان کیا ہوا ہے۔ ان دونوں شخصیات سوچی کو اس کامیابی پر مبارکباد دے چکے ہیں۔ یونین سولیڈیرٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے چالیس ارکان منتخب ہو کر پارلیمان میں پہنچے ہیں۔ اس جماعت کو فوج کی حمایت بھی حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اس تاریخی کامیابی پر سوچی کو مبارکبارد پیش کی ہے۔ اپنےبیان میں بان کی مون نے فوجی کی جانب سے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو بھی سراہا۔ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی 1990ء کے پارلیمانی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کر چکی ہے تاہم اس وقت فوج نے نتائج کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا۔

ستر سالہ سوچی ملکی آئین میں موجود ایک شق کی وجہ سے ملکی صدر نہیں بن سکتیں۔ تاہم نوبل انعام یافتہ یہ رہنما پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ وہ صدر کے انتخاب کے حوالے سے اس قانون پر توجہ ضرور دیں گی۔ اس موقع پر واشنگٹن حکومت نے میانمار کے آئین میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سوچی کا سربراہ حکومت بننے کا راستہ ہموار ہو سکے۔ سوچی نے اپنے سیاسی سفر کے دوران زیادہ تر وقت نظر بندی میں گزارا ہے۔ میانمار میں پانچ لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمانوں کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں ہے۔