1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیروشیما کا دورہ، اوباما نے تاریخ رقم کردی

امریکی صدر باراک اوباما ہیروشیما کے دورے پر پہنچے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ میں ہیروشیما، امریکا کی طرف سے گرائے جانے والے پہلے ایٹم بم کا نشانہ بنا تھا۔ جوہری حملے کے بعد سے یہ کسی امریکی صدر کا اس شہر کا پہلا دورہ ہے۔

چھ اگست 1945ء کو امریکی بمبار طیارے اینولا گے نے جاپان کے مغربی شہر ہیروشیما پر ’لٹل بوائے‘ نامی جوہری بم گرایا تھا جو کسی بھی شہر پر گرایا جانے والے تاریخ کا پہلا ایٹم بم تھا۔ اس کے نتیجے میں 140,000 ہزار انسان لقمہ اجل بن گئے۔ اس کے محض تین روز بعد ہی ایک اور جاپانی شہر ناگاساکی پر بھی جوہری بم گرا دیا گیا جو 80,000 کے قریب انسانوں کی موت کا سبب بنا۔ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی اور انسانی ہلاکتوں کے بعد 15 اگست 1945ء کو جاپان نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا۔

باراک اوباما کا بطور امریکی صدر  اپنے دفتر میں آخری سال ہے۔ انہوں نے سات برس قبل چیک ری پبلک کے دارالحکومت دی پراگ میں اپنی مشہور زمانہ تقریر میں دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا جو انہیں نوبل امن انعام ملنے کی وجہ بھی بنا۔ تاہم یہ خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ اوباما ہیرو شیما میں اپنی موجودگی کو موجودہ جوہری خطرات کے خلاف عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک علامت کے طور پر استعمال کریں گے۔

ہیروشیما کا ہمارا دورہ۔۔۔ جوہری ہتھیاروں کے بغیر دنیا کے ہمارے مشترکہ تصور کی دوبارہ توثیق کرے گا، اوباما

ہیروشیما کا ہمارا دورہ۔۔۔ جوہری ہتھیاروں کے بغیر دنیا کے ہمارے مشترکہ تصور کی دوبارہ توثیق کرے گا، اوباما

جی سیون کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر باراک اوباما نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں ایک بار پھر ان حقیقی خطرات کو اور ان خطرات کے حوالے سے ان اقدامات کو واضح کرنا چاہتا ہوں جن کی ہمیں فوری ضرورت ہے۔‘‘  رواں ہفتہ کے اوائل میں ازیں اوباما کہہ چکے ہیں، ’’ہیروشیما کا ہمارا دورہ۔۔۔ جوہری ہتھیاروں کے بغیر دنیا کے ہمارے مشترکہ تصور کی دوبارہ توثیق کرے گا۔‘‘

باراک اوباما عہدہ صدارت پر موجود پہلے ایسے امریکی صدر ہیں جو ہیرو شیما کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے میں ان کے ساتھ جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے بھی موجود ہیں۔ اوباما کے مطابق ان کی موجودگی دراصل امریکا اور جاپان کے درمیان اُس غیر معمولی اتحاد کی عکاسی ہو گی جو جنگ کی راکھ سے پیدا ہوئی۔

ہیرو شیما میں اوباما اس ’یادگاری امن پارک‘ میں واقع ایٹم بم کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد پر پھول چڑھائیں گے۔ وہ اس موقع پر ایک خطاب بھی کریں گے اور اس موقع پر موجود حاضرین میں ایٹم بم حملے کے کم از کم تین بچ جانے والے افراد بھی موجود ہوں گے۔