1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیروشیما پر بمباری کے 70 سال: جاپان میں یادگاری تقاریب

جمعرات 6 اگست کو دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکا کی طرف سے گرائے گئے پہلے ایٹم بم کی 70 ویں برسی منائی جارہی ہے۔

اس موقع پر ہیروشیما میں ہزاروں جاپانیوں نے عالمی تاریخ کے اُن بھیانک واقعات کی متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دعائیہ تقریبات میں حصہ لیا۔ امریکی بمباری میں بچ جانے والوں نے متنبہ کیا ہے کہ جاپان اپنے امن پسند آئین سے کسی بھی وقت منحرف ہو سکتا ہے۔

جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے اور اُن کی حکومت ایسے سکیورٹی بلوں کی پارلیمان سے منظوری کی کوششیں کر رہی ہے جن کے تحت جاپان بحرانی خطوں میں اپنی فوج بھیج سکے گا۔ جاپان دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ایسا کر سکے گا۔ حکومت کی ان کوششوں کے خلاف جاپان بھر میں بڑے عوامی مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں جاپانی عوام نے دوسری عالمی جنگ میں امریکا کی طرف سے ہیروشیما پر کی جانے والی بمباری کے انسانیت سوز واقعات کے 70 سال مکمل ہونے پر منعقد ہونے والی یادگار تقاریب کے بعد ملکی وزیر اعظم شینزو آبے پر اپنا موقف ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ ایک 86 سالہ جاپانی باشندے یوکیو یوشیوکا اس بارے میں کہنا تھا،’’ یہ قانونی بل ہماری قوم کے لیے دوبارہ جنگ کے سانحے کا سبب بنیں گے۔ انہیں واپس لیا جانا چاہیے‘‘۔

Japan Hiroschima Abwurf Atombombe 1945

اس جوہری بم کے نتیجے میں چند ہی ماہ میں ڈیڑھ لاکھ افراد مارے گئے تھے

ہیروشیما میں تقریبات کا آغاز بدھ کو بدھ مت کے پیشواؤں اور مقامی افراد کے مظاہرے سے ہوا تھا جبکہ جمعرات کو منعقد ہونے والی سرکاری تقریب میں وزیراعظم شنزو آبے اور ہیروشیما کے میئر کازومی ماتوسی کے ساتھ جاپان میں امریکی سفیر کیرولائن کینیڈی نے بھی شرکت کی جس میں خاموش دعا اور امن کا نشان فاختہ فضا میں آزاد کی گئیں۔ مرکزی تقریب ہیروشیما کے یادگاری پارک میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شنزو آبے بھی شریک تھے۔ دریائے موتویاسو میں ہزاروں کی تعداد میں لالٹینیں چھوڑی گئیں۔

ہیروشیما کے میئر ماتسوئی کازومی نے جوہری ہتھیاروں کی تلفی پر زور دیتے ہوئے ایک ایسے دفاعی نظام کی تشکیل کا مطالبہ کیا جس کا انحصار فوجی طاقت پر نہ ہو۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا،’’ ایسے نظام کی تشکیل کے لیے صبر و تحمل اور ہمت کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔ ہمیں دنیا بھر میں حقیقی امن کی راہ ہموار کرنا ہوگی، ایسا امن جس کی پرچار جاپانی آئین کرتا رہا ہے‘‘۔

70 سال قبل ہیرو شیما پر امریکا کی طرف سے کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اُسی برس یعنی 1945 ء 9 اگست کو جاپان کے دوسرے شہر ناگاساکی پر بھی ایٹم بم برسائے گئے جو 40 ہزار انسانی کی ہلاکت کا سبب بنے۔ اتنی ہلاکتوں اور تباہیوں کے بعد 15 اگست 1945 ء کو دوسری عالمی جنگ کا اختتام ہوا تھا۔