1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیروشیما پر ایٹمی حملے کے 66 برس مکمل

آج ہفتے کے دن جاپانی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے کے 66 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران چھ اگست 1945ء کو امریکہ نے پہلی مرتبہ اس خطرناک بم کا استعمال کیا تھا۔

default

کیا امریکہ کی طرف سے ایٹم بم کا استعمال ایک درست فیصلہ تھا؟ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس حوالے سےمتضاد رائے سامنے آ رہی ہے۔ ٹھیک 66 سال پہلے جاپانی شہر ہیروشیما پر پھینکے گئے ایٹم بم کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی تھی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے جبکہ ہزارہا افراد بری طرح جھلس گئے تھے۔

صرف ایک ایٹم بم کے پھٹنے سے جو حدت اور تابکاری مادے خارج ہوئے تھے، اس کے اثرات ابھی تک اس جاپانی شہر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے دوسرا ایٹم بم جاپانی شہر ناگا ساکی پر نو اگست کو پھینکا گیا تھا۔

Bildergalerie Atomwaffen 66 Jahre Hiroshima Atombomben Sprengung in Nevada USA

جاپان میں گرائے گئے ایٹم بموں کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے

آج ہفتے کو جاپان میں ہوئی ایک خصوصی یادگاری تقریب میں صدر ناؤتو کان نے فوکو شیما میں ہوئے حالیہ حادثے کے تناظر میں ملک کو جوہری مواد سے پاک بنانے کے عزم کو دہرایا۔ اس تقریب میں امریکہ سمیت کل ساٹھ ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جہاں جاپان میں آج اس مخصوص دن کے حوالے سے کئی یادگاری تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، وہیں ایک مرتبہ پھر یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا امریکہ کی طرف سے ایٹم بم کا استعمال ایک درست فیصلہ تھا یا نہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما کے لیے یہ معاملہ بہت ہی حساس ہے۔ اپنے آخری دورہ ء جاپان کے دوران انہوں نے نہ تو ہیروشیما پر کوئی بات کی اور نہ ہی ناگا ساکی کا ذکر چھیڑا۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا تھا کہ مستقبل میں ان دونوں شہروں کا دورہ کرنا، ان کے لیے معنی خیز ہو گا۔ 2010 ء میں اوباما نے پہلی مرتبہ اپنا ایک خصوصی نمائندہ جاپان روانہ کیا تھا ، جس نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے جانے کی یاد میں منعقد کی گئی خصوصی تقریبات میں شرکت کی تھی۔

Flash-Galerie 65. Jahrestag Hiroshima

ہیرو شیما جوہری حملے کے متاثرین، فائل فوٹو

امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک معروف ماہر تاریخ رچرڈ روڈز نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدر اوباما اس حوالے سے پیش رفت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ان دو متاثرہ شہروں کا دورہ ضرور کریں گے تاہم اپنی دوسری مدت صدرات کے دوران۔ یہ امر اہم ہے کہ ابھی تک امریکی تاریخ میں کسی بھی صدر نے اپنی مدت صدارت کے دوران ان دونوں میں سے کسی ایک شہر کا دورہ بھی نہیں کیا ہے۔

روڈز کے بقول اوباما کا ہیروشیما یا ناگاساکی کا دورہ کرنا، اپوزیشن کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک بھی خراب ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے امریکیوں کی طرف سے ایسے کسی بھی دورے کو ’ایک جرم کے اعتراف‘ کے طور پر لیا جائے گا۔

رچرڈ روڈز نے مزید کہا کہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک بنانے کی امریکی کوشش اگرچہ ابھی تک کوئی خاص اثر نہیں دکھا سکی ہے تاہم مستقبل میں اس حوالے سے اہم پیشرفت ہو گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس