1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیروئن کے اسمگلروں نے افریقہ کا رخ کرلیا

اقوام متحدہ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ یورپ تک منشیات اسمگل کرنے والوں نے وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کے باعث افریقہ کا رخ کرلیا ہے۔

default

یو این کے دفتر برائے انسداد جرائم و انسداد منشیات UNDOC کے مطابق کئی افریقی ممالک کی حکومتیں کمزور ہیں اور ہیروئن کی اسمگلنگ کی مناسب روک تھام کی قابلیت نہیں رکھتیں۔

افغانستان میں کاشت کی جانے والی افیون سے متعلق تیار کی گئی اس عالمی رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’ حالیہ عرصے کے دوران پکڑی گئی منشیات اور اسمگلروں کی گرفتاریوں سے یہ اشارے ملے ہیں کہ افریقی اسمگلر، بالخصوص مغربی افریقی نیٹ ورکس نے پاکستان اور پھر مشرقی افریقہ کے راستے افغانستان کی افیون اسمگل کرنے کے سلسلے کو دوام دے رکھا ہے، جو یہاں سے پھر یورپ اور دیگر خطوں میں لے جائی جاتی ہے۔‘‘

افغانستان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ شورش زدہ ریاست دنیا بھر میں افیون کی پیداوار کے حوالے سے سرفہرست ہے۔ افیون، ہیروئن کی تیاری میں خام مال کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2009ء میں افغانستان میں پیدا کی گئی افیون کا 40 فیصد پاکستان کے راستے دنیا بھر کو سپلائی کیا گیا، جو ہیروئن کے لگ بھگ 68 ارب ڈالر سالانہ تجارت کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔

Flash-Galerie Frauen Afghanistan Safran Handel Opium

افغانستان میں افیون کے متبادل کے طور پر زعفران کی کاشت کو فروغ دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں

رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک تنزانیہ اور کینیا میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ہیروئن کی دو بڑی کھیپیں پکڑی گئیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق چونکہ ان افریقی ریاستوں میں بدعنوانی بڑھتی جارہی ہے، حکومتی گرفت انتہائی کمزور اور غربت عام ہے، اسی لیے یہاں سے سمندر کے راستے ہیروئن اسمگل کرنا قدرے آسان خیال کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ 80ء کی دہائی میں بھی افریقہ ہی یورپ تک منشیات اسمگل کرنے کا اہم نیٹ ورک تھا مگر بعد میں وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک کے راستوں سے بھی اسمگلنگ بڑھ گئی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق 2009ء میں افغانستان میں کاشت کی گئی 150 ٹن افیون یورپ تک، 120 ٹن ایشیائی ممالک تک، اور 45 ٹن افریقہ تک پہنچی تھی۔ UNDOC کے مطابق ایک عام کاشتکار کے مقابلے میں منظم جرائم میں ملوث اسمگلر، افیون سے ہیروئن بنانے والے اور سمگلنگ روٹس پر موجود مسلح حلقے اس کاروبار سے سالانہ بنیادوں پر اربوں ڈالر حاصل کرتے ہیں۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت:شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس