1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیتھرو ایئرپورٹ پر سیکیورٹی الرٹ، تین افراد گرفتار

لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر دبئی جانے والے طیارے سے تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لندن پولیس نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گرفتاریاں سیکیورٹی وجوہات پر کی گئی ہیں۔

default

ہیتھروایئرپورٹ

اس سے قبل اطلاعات ملی تھیں کے لندن سے دبئی جانے والی ایمریٹس ایئرلائن کی پرواز کی روانگی سے قبل سیکیورٹی اہلکار اس جہاز میں داخل ہوئے تھے۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق گرفتار کئے جانے والے تینوں افراد حراست میں ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے وجہ سے دیگر پروازیں متاثر نہیں ہوئیں اور ایئرپورٹ کھلا رہے گا۔ جہاز میں موجود ایک مسافر نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ بظاہر نشے میں مدہوش ایک شخص کی طرف سے دھمکیاں دینے کے بعد پولیس نے یہ کارروائی کی۔

برطانوی ایئرپورٹس اتھارٹی BAA نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صرف دبئی جانے والی مذکورہ پرواز ہی متاثر ہوئی ہے۔

25

Abdulmutallab / Detroit / Bundesgericht

مشتبہ دہشت گرد عبدالمطلب کی عدالت میں پیشی کی ڈرائنگ

دسمبر کو کرسمس کے روز ایک نائیجیریئن باشندے کی طرف سے ایمسٹرڈیم سے ڈیٹرائٹ جانے والی پرواز کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک کے ایئرپورٹس پر سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔ دوسری طرف امریکی حکام کی جانب سے 14 ممالک سے امریکہ آنے والے مسافروں کے سفر کے لئے خصوصی ضوابط کا بھی اعلان کیا جاچکا ہے۔ ان ممالک میں عراق، افغانستان، سعودی عرب کے علاوہ پاکستان بھی شامل ہے۔

دوسری طرف ڈیٹرائٹ جانے والی پرواز کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کرنے والے 23 سالہ ملزم عمر فاروق عبدالمطلب کو گزشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے اپنے خلاف لگائے جانے والے چھ الزامات میں بے قصور ہونے کی درخواست کی۔

اس نائیجیریئن نوجوان نے کپڑوں میں چھپائے گئے دھماکہ خیز مواد سے ایمسٹرڈیم سے ڈیٹرائٹ جانے والی پرواز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس پرواز میں 290 افراد سوار تھے۔

برطانوی انٹیلی جنس حکام کے مطابق عمرفاروق نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ یمن میں اسی طرز پر دوران پرواز جہازوں کودھماکے سے تباہ کرنے کے لئے 20 کے قریب دیگر نوجوانوں کو تربیت دی جارہی ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM