1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ہٹلر کا سابق محافظ تھک گیا‘

دوسری عالمی جنگ کو 65 برس مکمل ہونے کے بعد جرمن نازی حکمران ہٹلر کے ایک سابق محافظ نے کہا ہے کہ اب خرابی صحت کی وجہ سے وہ اپنے مداحوں کے خطوط کا مزید جواب نہیں دے سکتا۔

default

جرمن نازی رہنما ہٹلر کے سابق محافظ Rochus Misch کی عمر اس وقت 93برس ہو چکی ہے۔ اب وہ چلنے کے لئے بیساکھیوں کا سہارا لینے لگا ہے۔ عمر کے بڑھنے اور خرابی صحت کے بعد اب اسے احساس ہونے لگا ہے کہ وہ اپنے مداحوں کے خطوط کا مزید جواب نہیں دےسکتا۔ روکِش مِش کو اب بھی لاتعداد خطوط موصول ہوتے ہیں، جن میں لوگ اس کے آٹو گراف مانگتے ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے روکِش کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ عمر رسیدگی کی وجہ سے اب اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ ایسے خطوط کے جواب نہیں دے گا۔ وہ خود بتاتا ہے،’ بہت سے خطوط میں لوگ آٹو گراف کے لیے کہتے ہیں، اب یہ ممکن نہیں ہے کہ میں اس عمر میں انہیں جواب دوں۔‘

Hitler in Bayreuth

Rochus Misch نے ہٹلر کے لئے دیگر کئی خدمات بھی سر انجام دی تھیں

وہ بتاتا ہے کہ اسے موصول ہونے والے خطوط کوریا، فن لینڈ، آئس لینڈ اور دیگر ممالک سے آتے ہیں۔ روکِش کے بقول کسی بھی خط میں اس کے ساتھ غلط زبان استعمال نہیں کی گئی۔ وہ بتاتا ہے کہ پہلے وہ اپنے مداحوں کو آٹو گراف کے ساتھ اپنی وہ تصویریں بھی ارسال کرتا تھا، جس میں اس نے ہٹلر کی فوج ایس ایس کی یونیفارم پہن رکھی ہوتی تھی۔

شائد روکِش وہ آخری زندہ انسان ہے، جس نےہٹلر اور اس دور کے دیگر اعلیٰ ایس ایس رہنماؤں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ روکِش نے ہٹلر کے لیے ٹیلی فون آپریٹر اور کوریئر کا کام بھی سر انجام دیا تھا۔ اس نے سن 2008ء میں اپنی یادوں پر مبنی ایک کتاب ’آخری گواہی‘ بھی شائع کی تھی، جس پر بہت جلد ایک فلم بھی بنائی جا رہی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات