ہيلموٹ کوہل : دوبارہ جرمن اتحاد کے قائد | جرمنی اور جرمن | DW | 06.05.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

جرمنی اور جرمن

ہيلموٹ کوہل : دوبارہ جرمن اتحاد کے قائد

جرمنی کا دوبارہ اتحاد ايک بڑا تاريخی واقعہ ہے۔ اس وقت وفاقی جرمنی کے چانسلر ہيلموٹ کوہل تھے۔ يہ فيصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا کہ وہ اس اتحاد کے خالق يا محض صحيح وقت پر ايک تاريخی عمل سے فائدہ اٹھانے والے تھے۔

جرمنی کے سابق چانسلر ہيلموٹ کوہل جن کے دور ميں مغربی اور مشرقی جرمنی دوبارہ متحد ہوئے تھے، اپنی خرابیء صحت کی وجہ سے اب عوامی زندگی سے دور ہوچکے ہيں ۔تاہم اصولی طور پر وہ ايک عرصہ ہوئے اپنا ہدف حاصل کرچکے ہيں کيونکہ اُن کا خواب جرمن اتحاد ، پورا ہوچکا ہے۔ اس لئے بھی اُن کے حامی اُن کی 80 ويں سالگرہ منانا چاہتے ہيں۔ کوہل نے کہا: " تو اگر ميں 80 سال کی عمر ميں اپنی زندگی کا جائزہ لينے کی کوشش کروں تو ميں يہ کہہ سکتا ہوں: ميں اس زندگی پر فخر محسوس کرتا ہوں اور اس کے لئے مشکور ہوں۔"

ہيلموٹ کوہل کی سياسی زندگی کا نقطہء عروج تين اکتوبر سن 1990کا دن تھا: جرمن اتحاد قائم ہوچکا تھا۔ کوہل نے اس سے پہلے کے کئی مہينوں کے دوران تقريباً روزانہ ہی عالمی تاريخ رقم کی تھی۔ان ميں سے ايک تاريخی دن نو نومبر سن 1989 تھا۔ ہيلموٹ کوہل وارسا ميں اپنے پولش ہم منصب ماسو ويچکی کے پاس تھے۔ وہ اور وزير خارجہ گينشر ايک زمانے منں جرمنی کے جنگی حريف پولينڈ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے تھے۔ اُسی دن شام کو مشرقی برلن کی صورتحال يہ تھی: وہاں کے شہريوں نے ٹيلی وژن پر يہ سنا تھا کہ سرحد عبور کرکے مغربی جرمنی جانا فوراً ممکن ہو گيا تھا۔ اس لئے ہزاروں افراد سرحد کا رخ کررہے تھے۔ وارسا ميں بھی يہ سنسنی خيز خبر جنگل کی آگ کی طرح پھيل گئ تھی اور اُس نے کوہل کے دورے کے پروگرام کو بھی تہہ و بالا کرديا تھا۔ ہيلموٹ کوہل نے کہا:" آج کی صورتحال کی وجہ سے موضوعات گفتگو بہت تبديل ہوگئے ہيں کيونکہ يہاں وارسا ميں بھی جرمنی اور مشرقی جرمنی کے حالات ميں بہت دلچسپی لی جارہی ہے۔"

Flash-Galerie Bilder der Woche Helmut Kohl

سابق چانسلر کوہل 5 مئی سن 2010 کو اپنی 80ويں سالگرہ کے موقع پر

اگلی صبح چانسلر کوہل نے پولينڈ کا دورہ قبل از وقت ختم کرديا اور وہ واپس برلن روانہ ہوگئے جہاں حيران کن مناظر ديکھنے ميں آرہے تھے اور کوہل انہيں خود اپنی آنکھوں سے ديکھنا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے مغربی برلن کی ميونسپيلٹی کی بلڈنگ کے سامنے تقرير کرتے ہوئے کہا: " ان دنوں اور ہفتوں کے مناظر ہميں اپنا فرض ياددلاتے ہيں۔ ميں تمام مشرقی جرمنوں سے يہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ تنہا نہيں۔ ہم آپ کے ساتھ ہيں۔ ہم ايک قوم ہيں اور ايک قوم ہی رہيں گے۔ ہم ايک دوسرے کے ساتھ ہيں۔"

اس کے دوہفتے بعد ہی کوہل نے وفاقی پارليمان ميں اپنا 10 نکاتی پلان پيش کرديا جس ميں اُنہوں نے جرمنی کی تقسيم کے خاتمے کے اقدامات تجويز کئے تھے۔ اُن کے اس منصوبے کا علم صرف اُن کے انتہائی قريبی ساتھيوں کو تھا۔ اس لئے اتحادی ممالک ميں بھی اس پر بڑی حيرانگی تھی۔ کوہل کو يہ بخوبی احساس تھا کہ اتحاديوں کو ناراض نہيں کيا جا سکتا اور اس لئے وہ جرمنی کے اتحاد سے متعلق کسی قسم کے قوم پرستانہ جذبات کے اظہار سے گريز کرنا چاہتے تھے۔

غير ملکی حکومتوں ميں سے اکثر نے فی الوقت جرمنی کے دوبارہ اتحاد کو رد کرديا تھا کيونکہ اُنہيں يورپ کے وسط ميں ايک متحد جرمنی کے دوبارہ ايک بڑی طاقت کے طور پر ابھرنےسے بہت خوف تھا۔ تاہم کوہل نے اپنی براہ راست مکالمت کے انداز سے تمام متعلقہ فريقين کا اعتماد جيتنے ميں کاميابی حاصل کرلی۔ فروری سن 1990 منں انہيں ماسکو ميں گورباچوف سے بات چيت ميں فيصلہ کن کاميابی حاصل ہوئی۔ اُنہوں نے سوويت يونين کی بحران کی شکار اقتصاديات کو مدد دينے کا وعدہ کيا اور اس طرح جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے راستے میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دور کردی۔ اقتصادی امداد کے وعدے سے گورباچوف کو ، خود کريملن اور پولٹ بيورو ميں بھی جرمن اتحاد کی مخالفت پر قابو پانے ميں مدد ملی۔

Helmut Kohl zu Arbeitsbesuch im Kaukasus

ہيلموٹ کوہل گورباچوف کے ساتھ: جرمن اتحاد پر بات چيت

ہيلموٹ کوہل جرمن اتحاد کے خالق ہيں يا اس تاريخی عمل سے فائدہ اٹھانے والے، يہ ايک مشکل سوال ہے۔ جو بات طے ہے وہ يہ ہے کہ اُنہوں نے اُس تاريخی موقع سے فائدہ اٹھايا جو انہيں مل رہا تھا۔ تاہم کوہل آج خود بھی يہ تسليم کرتے ہيں کہ اُنہوں نے دوبارہ جرمن اتحاد کے اقتصادی پہلؤوں کا صحيح اندازہ نہيں لگايا تھا اور اتحاد کے بعد مشرقی جرمنی ميں لہلہاتے ہوئے سبزہ زاروں کا وعدہ وقت سے بہت پہلے ہی کرليا تھا۔

DW.COM

ویب لنکس