1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہونڈوراس کا سیاسی بحران: سیلایا سرحد پر

ہونڈوراس کے معزول اور ملک بدر کئے گئے صدر مانوئل سیلایا آج ایک مرتبہ پھر نکاراگوا کی سرحد پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ اپنے وطن ہونڈوراس میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔

default

معزول صدر سیلایا نکارا گوا کی سرحد سے اپنے حامیوں کو ہاتھ ہلا رہے ہیں۔

Honduras Nicaragua

ہونڈوراس کے سکیورٹی اہلکار آنسو گیس پھینکتے ہوئے۔

مانوئل سیلایا نے گزشتہ روز بھی نکاراگوا کی سرحد سے ہونڈوراس میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی مگر ہونڈوراس کی سیکیورٹی فورسز نے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا۔ آج وہ ایک مرتبہ پھر نکاراگوا کی سرحد پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے ان کو ہونڈوراس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

سیلایا کا کہنا ہے کہ وہ نکاراگوا اور ہونڈوراس کی سرحد کے درمیان ایک کیمپ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں وہ قیام کریں گے اور اس طرح وہ ہونڈوراس کی عبوری حکومت پر دباؤ ڈالیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں اپنے اہلِ خانہ سے ملنے دیا جائے۔

وسطی امریکی ملک ہونڈوراس کا سیاسی بحران کسی طور پر محدود نہیں ہو رہا۔ کوسٹا ریکا کے صدر آسکر آریاس کی کوششیں بے اثر دکھائی دے رہی ہیں۔ ملک بدر کئے گئے صدر مانویل سیلایا کے مشیران اور عبوری حکومت کے نمائندے کسی ایک نکتے پر متفق نہیں ہو پا رہے اور فریقین کے اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے سیاسی بحران کے خاتمے کے لئے ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ہی ختم ہو گئے۔

بات چیت میں ناکامی کے بعد معزول صدر سیلایا نے نکار گوا کے ساتھ جڑی سرحد سے ہنڈوراس میں داخل ہونے کی کوشش تو ضرور کی مگر اپنے ملک کے اندر ایک قدم رکھنے کے بعد انہیں دوبارہ ملک بدر کر دیا گیا۔ سیلایا کے اِس اقدام کو امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے انتہائی بے خطر اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر اقدام قرار دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر اُوگو شاویز نے کہا کہ امریکہ اب یہ چاہتا ہے کہ ہونڈوراس کی عبوری حکومت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہو تے ہوئے اگلے الیکشن میں کامیابی حاصل کرے۔ دارالحکومت کاراکس میں ملک کی قومی اسمبلی سے تقریر کرتے ہوئے شاویز نے کہا کہ فوجی بغاوت کے ذریعے برسرِ اقتدار میں آنے والی عبوری حکومت اگر الیکشن میں کامیابی بھی حاصل کر لیتی ہے تو جائز نہیں قرار دی جا سکتی اور اِس کو ہونڈوراس کی حکومت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

Proteste Honduras

معزول صدر کا حامی، پولیس دستوں کے آگے بیٹھا ہوا

گذشتہ روز ہونڈوراس کے معزول صدر کی اپنے ملک داخل ہونے کی ایک اور کوشش کے دوران سرحدی مقام کے قریب ایک تیئیس سالہ نوجوان کی نعش ملی ہے جو سیلایا کا حامی تھا۔ اُس کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔ لاش کی شناخت کر لی گئی ہے اور عینی شاہدین کے مطابق مقتول کو پولیس نے گزشتہ روز حراست میں لیا تھا۔ اِس ہلاکت پر معزول صدر نے عبوری حکومت کے سربراہ رابرٹو میشیلیٹی کو جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کی غلطی کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔ میشیلٹی حکومت نے سرحد کے ساتھ ساتھ کرفیو کی مدت میں اضافہ کردیا ہے تا کہ کسی طور سیلایا کے حامیوں کا اجتماع نہ ہو سکے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مانوئیل سیلایا کی سرحد عبور کرنے کی کوشش اصل میں پریشر پالیٹکس کا حصہ ہے۔ ایک طرف وہ ایسے اقدامات کر کے عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں دوسری جانب عبوری حکومت کی نیند حرام کر رہے ہیں۔ اندرونِ ملک بھی سیلایا کے حامیوں کی جانب سے حکومت مخالف سرگرمیوں جاری ہیں۔

معزول صدر سیلایا جہاں ایک بار پھر امریکی دارالحکومت واشنگٹن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہیں انہوں نے صدر اوباما سے ہونڈوراس کی عبوری حکومت کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مانویل سیلایا کے باعث امریکی صدر مشکل صورت حال سے دوچار ہیں کیونکہ امریکہ لاطینی امریکی ملکوں میں دائیں بازو کی فوجی بغاوتوں کی حمایت میں تسلسل کا خواہشمند نہیں ہے اور مانویل سیلایا کا سیاسی وقار اور اسلوب بھی خاصا پیچیدہ ہے جس کو کھل امریکی حمایت حاصل ہونا مشکل ہے۔ اِسی باعث امریکی ایوانِ نمائندگان کے کچھ ری پبلکن ممبران کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے سیلایا کے لئے جتنا کچھ کردیا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔

عبوری حکومت نے سرحد پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو معزول صدر کوملک میں داخل ہونے پر گرفتار کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ میشیلیٹی حکومت کا کہنا ہے کہ سیلایا بڑے شوق سے واپس ملک لوٹیں لیکن اُن کو سیدھا جیل جانا پڑے گا اور چار الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا ہو گا جس میں غداری کا الزام بھی شامل ہے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ عبوری حکومت کی یہ ڈرانےدھمکانے کی ایک پالیسی ہے اور اُس کے پاس سیلایا کے خلاف زوردار ثبوت موجود نہیں ہیں۔