1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہونڈوراس: پارلیمان سیلایا کی بحالی کے لئے کچھ نہیں کرے گی

ہنڈوراس کی پارلیمان نے معزول اور پھر وطن بدر کر دئے گئے صدر مانوئل سیلایا کی واپسی سے متعلق ووٹنگ کی درخواست نظر اندازکر تے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک آئینی مسئلہ ہے۔

default

جلاوطن صدر مانوئل سیلایا

سیلایا اور عبوری حکومت کے مابین ثالثی کرنے والے ملک کوسٹا ریکا کے صدر اوسکار آریاس نے تجویز دی تھی کہ ملک کا بحران ختم کرنے کےلئے کانگریس یعنی ملکی پارلیمان ایک قرارداد کے ذریعے سیلایا کو ملک واپس آنے کے احکامات جاری کرے۔

ہنڈوراس کی کانگریس کے سربراہ جوزے ایلفریڈو سوادرا نے کہا ہے کہ جلا وطن صدر کی واپسی کے لئے کانگریس کسی قسم کا کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی کیونکہ یہ ایک پیچیدہ قانونی مسلہ ہےتاہم سوادرا نے کہا کہ سیلایا کے سیاسی جرائم کی معافی کے حوالے سے فیصلہ جمعرات کے روز تک کر متوقع ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ سیلایا کی بحالی چاہتا ہے تاہم امریکہ کی جانب سے ہونڈوراس کی عبوری حکومت کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کے حوالے سے کوئی عندیہ نہیں دیا گیا ہے۔ ہنڈوراس کے معزول صدر نے امریکی دباؤ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عبوری حکومت پر پابندیاں سخت کرے تاکہ وہ نتیجہ خیز مذاکرات پر آمادہ ہو۔

اس سے قبل جلاوطن صدر سیلایا کئی مرتبہ وطن واپسی کی کوشش کر چکے ہیں تاہم سیکیورٹی فورسز نے ان کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا۔ پیر کے روز ہونڈوراس کے معزول صدر کی اپنے ملک داخل ہونے کی ایک اور کوشش کی لیکن وہ ملک میں داخل نہیں ہو پائے۔ رابرٹومیشیلٹی کی عبوری حکومت نے سرحد کے ساتھ ساتھ کرفیو کی مدت میں اضافہ کردیا ہے تاکہ کسی طور سیلایا کے حامیوں کا اجتماع نہ ہو سکے۔

دریں اثناء ماہرین نے مانوئل سیلایا کی سرحد عبور کرنے کی کوششیں کودباؤ ڈالنے کی سیاست قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو سیلایا ایسے اقدامات کر کے عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عبوری حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اندرونِ ملک بھی سیلایا کے حامیوں کی جانب سے حکومت مخالف سرگرمیاں جاری ہیں۔

معزول صدر سیلایا جہاں ایک بار پھر امریکی دارالحکومت واشنگٹن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہیں انہوں نے صدر اوباما سے ہونڈوراس کی عبوری حکومت کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مانویل سیلایا کے باعث امریکی صدر مشکل صورت حال سے دوچار ہیں کیونکہ امریکہ، لاطینی امریکی ملکوں میں دائیں بازو کی فوجی بغاوتوں کی حمایت میں تسلسل کا خواہش مند نہیں ہے اور مانویل سیلایا کا سیاسی وقار اور اسلوب بھی خاصا پیچیدہ ہے، جس کو کھل کر امریکی حمایت حاصل ہونا مشکل ہے۔ اِسی باعث امریکی ایوانِ نمائندگان کے کچھ ری پبلکن ممبران کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے سیلایا کے لئے جتنا کچھ کردیا ہے وہ پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔

ہونڈوراس کی عبوری حکومت نے سرحد پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کو حکم دے رکھا ہے کہ کہ اگر معزول صدر ملک میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے۔ میشیلیٹی حکومت کا کہنا ہے کہ سیلایا بڑے شوق سے واپس ملک لوٹیں لیکن اُن کو جیل بھیج دیا جائے گا۔ عبوری حکومت کے مطابق سیلایا کو وطن واپسی پر چار الزامات کا سامنا کر نا ہو گا جن میں غداری کا الزام بھی شامل ہے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ عبوری حکومت کی یہ ڈرانے دھمکانے کی ایک پالیسی ہے اور اُس کے پاس سیلایا کے خلاف کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر ہوگو چاویز کے قریبی ساتھی سیلایا کا تختہ اس وقت ملکی فوج نے الٹ دیا تھا جب انہوں نے ملکی آئین میں تبدیلی کے لئے ریفرینڈم کروانے کا ارادہ کیا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM