1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ہولو کوسٹ کے دوران جبری مشقت، برلن میں تاریخی نمائش

ہولو کوسٹ یعنی یہودیوں کے قتل عام کے دوران بیس ملین سے زائد افراد سے بیگار لی گئی تھی۔ یہ ایک ایسا جرم تھا جس پر کئی سالوں تک کسی نے زبان نہیں کھولی۔

default

اس ہفتے برلن میں یہودیوں کے ایک میوزیم میں ایک ایسی نمائش کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں اس دور کی المناک کہانیوں کوسمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔

نازی دور حکومت میں یہودی سب سے پہلے بیگار یا جبری مشقت کے لئے اکٹھے گئے تھے۔ سن 1941ء میں جرمنی اور اُس دور کے مقبوضہ علاقوں میں زبردستی مزدوری کروانے کا عمل باقاعدہ طور پر رائج کر دیا گیا تھا، وہ چاہے گھریلو نوعیت کا کام ہو یا کسی صنعت میں یا پھر زراعت کا۔

Flash-Galerie 65 Jahre Befreiung Auschwitz

آؤشوِٹس کے نازی اذیتی کیمپ میں خواتین کی ایک ریائش گاہ

برلن میں شروع ہونے والی اس نمائش میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ’نیشنل سوشلزم‘ نے کس طرح جرمن معاشرے میں سرایت کرتے ہوئے، نسل پرستی کا درس دینا شروع کیا تھا۔ اس نمائش میں تصویروں، خطوط اور کئی اہم دستاویزات پر مشتمل کم ازکم ایک ہزار ایسے نسخے رکھے گئے ہیں، جو اس دور کے جبر کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ نمائش ستائس ستمبر کو شروع ہوئی، جو تیس جنوری سن2011ء تک جاری رہے گی۔

سچی کہانیاں :

ایک فرانسیسی شہری Jacques Leperc کی عمر بیس برس تھی، جب اسے نازی دور حکومت میں بیگار کرنے پر مجبور کیا گیا۔ برلن میں ہونے والی نمائش میں اس نوجوان کا ایک خط بھی رکھا گیا ہے،جو بتاتا ہے کہ کس طرح اس سے کار ساز ادارے بی ایم ڈبلیو کےایک پلانٹ میں زبردستی کام کروایا گیا تھا،’ جن بیرکس میں مجھے رہائش ملی تھی، وہاں بہت زیادہ سردی ہوتی تھی، مجھ سے بارہ بارہ گھنٹے کام کروایا جاتا تھا۔‘

بُوخن والڈ اذیتی کیمپ میموریل سینٹر کے ڈائریکٹر Volkhard Knigge بتاتے ہیں کہ Leperc شدید بیمار ہونے کے باوجود بھی زندہ بچ گیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس نمائش سے قبل ایک ماہر ٹیم نے نازی دور حکومت میں ہونے والے ظلم اوراستبداد کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لئے ایک باقاعدہ تحقیق کی ، تاکہ Leperc اور اس جیسے دوسرے مظلوم لوگوں کی کہانیاں عام لوگوں تک پہنچ سکیں۔

برلن میں جاری اس نمائش کے منتظم کرسٹیان واگنر کہتے ہیں کہ جن افراد سے بیگار لی گئی تھی، ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہی جنہیں ابھی تک کوئی ہرجانہ ادا نہیں کیا گیا’ حتٰی کہ آج تک، بیگار کرنے والے بہت سے لوگ ایسے ہیں، جن میں سوویت اوراطالوی قیدی شامل ہیں، جنہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔

Flash-Galerie 65 Jahre Befreiung Auschwitz

پولینڈ میں واقع آؤشوِٹس کا نازی اذیتی کیمپ، جسے سن 1945ء میں سوویت فوجیوں نے خالی کروایا، فوٹو سن1958ء

اس نمائش کے منتظمیں نے بتایا ہے کہ آئندہ سال یہی نمائش وارسا میں منعقد کی جائے گی جبکہ اس کے علاوہ بھی اس نمائش کو متعدد دیگر ممالک میں لے جایا جائے گا تاہم اس کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس