1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہنگری یورپی یونین کے کوٹہ سسٹم پر پابندی لگا سکتا ہے، حکمران پارٹی

ہنگری نے کہا ہے کہ ایک ایسا قانون تجویز کیا جائے گا، جس سے ملک میں مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آباد کاری پر پابندی لگائی جا سکے گی۔ ہنگری میں ووٹرز کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی یورپی یونین کے کوٹہ سسٹم کو مسترد کر چکی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان کے حوالے سے بتایا ہے کہ دس اکتوبر کو پارلیمان میں ایک ایسا قانون بحث کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے تحت ہنگری میں مہاجرین کی آباد کاری ممنوع قرار دے دی جائے گی۔ چار اکتوبر بروز منگل اوربان نے دارالحکومت بوڈا پیسٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اٹھانوے فیصد ووٹرز نے مہاجرین سے متعلق یورپی یونین کے کوٹہ سسٹم کو مسترد کر دیا ہے۔ اس ریفرنڈم کے نتائج کو قانون کی شکل دی جانا چاہیے۔‘‘

ہنگری ريفرنڈم: اٹھانوے فيصد ووٹر يورپی اسکيم کے خلاف

ہنگری ریفرنڈم : مہاجر کوٹہ منصوبہ مسترد کیے جانے کا امکان

ہنگری میں ریفرنڈم، مسلمانوں کو ’نفرت انگیز رویوں‘ کا سامنا

اس قانون کو حتمی شکل دینے کے لیے اس پر صدر کے دستخط ہونا ضروری ہیں، جس کے بعد نومبر کے آغاز میں اس پر عملدرآمد شروع ہو سکے گا۔ اتوار کے دن ہنگری میں کرائے گئے ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق تین اعشاریہ تین ملین ووٹرز نے یورپی یونین کے اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا، جس کے تحت اٹھائیس رکنی یورپی یونین کے تمام ممالک میں ایک کوٹے کے تحت مہاجرین کو منصفانہ طور پر تقسیم کرنے کی بات کی گئی ہے۔

ہنگری میں ہونے والے اس ریفرنڈم میں عوام سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ووٹرز یورپی یونین کے کوٹہ سسٹم کے تحت تارکین وطن اور مہاجرین کو ہنگری کی پارلیمان کی اجازت کے بغیر ہی ملک میں پناہ دینے کے حق میں ہیں؟ فیدس پارٹی کا کہنا تھا کہ اس سوال کا نفی میں جواب ہنگری کی آزادی اور سالمیت کے حق میں ہو گا۔ اس ریفرنڈم کے نتائج اس وقت تسلیم کیے جانا تھے، جب کم از کم پچاس فیصد ووٹرز نے اس رائے شماری میں حصہ لیا ہوتا تاہم اس ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح پچاس فیصد سے کم رہی، جس کے باعث اس کے نتائج غیر مؤثر ثابت ہوئے۔

تاہم اس کے باوجود دائیں بازو کے مہاجر مخالف سیاستدان اوربان نے برسلز سے بغاوت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے اس رائے شماری میں حصہ لیا ہے، اس لیے ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے آئین میں تبدیلی ضروری ہو گئی ہے۔ اس مجوزہ آئینی تبدیلی کا مقصد یہ ہو گا کہ ہنگری کی پارلیمان کی اجازت کے بغیر یورپی یونین کے کوٹہ سسٹم کے تحت تارکین وطن اور مہاجرین کو اس ملک میں آباد نہیں کیا جا سکے گا۔

وکٹور اوربان نے کہا ہے، ’’ہم یہ وضاحت کرتے ہیں کہ بوڈا پیسٹ کی اجازت کے بغیر برسلز ہنگری میں مہاجرین کی آبادکاری ممکن نہیں بنا سکتا ہے۔ ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے ہنگری کی حکومت زبردستی کی جانے والی اس آباد کاری پر پابندی لگا سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اتوار کے ریفرنڈم کے نتائج پر عمل کرنا قانونی طور پر لازمی نہیں تھا لیکن ووٹرز نے اس میں حصہ لے کر ایک سیاسی مؤقف پیش کر دیا ہے کہ مہاجرین کے کوٹہ سسٹم پر برسلز زبردستی نہیں کر سکتا ہے۔

Ungarn Orban gibt Statement zum Referendum ab (Reuters/B. Szabo )

ہنگری کے قدامت پسند وزیر اعظم وکٹور اوربان متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ مہاجرین کو پناہ دینے کے خلاف ہیں

ہنگری کے قدامت پسند وزیر اعظم وکٹور اوربان متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ مہاجرین کو پناہ دینے کے خلاف ہیں۔ اسی مقصد کی خاطر ان کی حکومت نے کروشیا اور سربیا سے متصل سرحدوں پر باڑیں نصب کر دی ہیں تاکہ مہاجرین ہنگری میں داخل نہ ہو سکیں۔ اوربان کا کہنا ہے کہ مہاجرین کو کوٹہ سسٹم کے تحت یورپی ممالک میں پناہ دینے کا فیصلہ دراصل ان کے ملک کی قومی خودمختاری کے خلاف ہے۔ یورپی یونین کی رکن ریاستوں نے گزشتہ برس ستمبر میں اتفاق کیا تھا کہ یورپ آنے والے ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین کو منصفانہ طور پر ایک کوٹے کے تحت اس اٹھائیس رکنی بلاک کی مخلتف ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے گا تاکہ کسی ایک ملک پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

DW.COM