1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہنگری: یورپی یونین پناہ گزین کوٹے کے خلاف ریفرنڈم

ہنگری کے عوام اتوار دو اکتوبر کو ایک ریفرنڈم میں ووٹ ڈالیں گے۔ امکان ہے کہ اس ریفرنڈم میں یورپی یونین کے پناہ گزین کوٹے کے منصوبے کو مسترد کر دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ پہلے سے تقسیم شدہ یورپ پر دباؤ میں اضافے کا سبب بنے گا۔

default

یورپین کمیشن کا کہنا ہے کہ ہنگری میں ریفرنڈم کے نتائج، کوٹے کی منصوبہ بندی یا یورپی یونین کے دیگر معاہدوں کو متاثر نہیں کریں گے

ہنگری میں رائے شماری کے تازہ نتائج بتاتے ہیں کہ مہاجرین کی تقسیم سے متعلق یورپی اسکیم پر ہونے والے اس ریفرنڈم میں مہاجرین مخالف نظریات رکھنے والے گروپ کے جیتنے کے واضح امکانات ہیں۔ تاہم اگر ووٹ ڈالنے کی شرح پچاس فیصد سے کم رہتی ہے تو اسے غیر مؤثر قرار دیا جائے گا۔ اوربان کی دائیں بازو کی حکومت نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے جارحانہ مہم چلاتے ہوئےآٹھ ملین مضبوط ووٹرز کی رائے مہاجرین کی تقسیم سے متعلق یورپی اسکیم پر ہونے والے ریفرنڈم میں اس کے خلاف ووٹ کے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کی  ہے۔

دوسری جانب یورپین کمیشن کا کہنا ہے کہ ہنگری میں ریفرنڈم کے نتائج، کوٹے کی منصوبہ بندی یا یورپی یونین کے دیگر معاہدوں کو متاثر نہیں کریں گے۔ یورپی یونین کے مہاجرین سے متعلقہ امور کے کمشنر دیمیترس آوراموپولوس نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’پہلے سے کیے گئے فیصلوں کو پورا کرنا رکن ممالک کی قانونی ذمہ داری ہے۔‘‘

Ungarn Budapest Viktor Orban Fidesz Vorsitzender Ministerpräsident (picture-alliance/AP Photo/T. Kovacs)

امکان ہے کہ ہنگری کےوزیرِاعظم اوربان، جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی یورپ میں آزادانہ داخلے کی پالیسی کے بڑے مخالف کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں گے

ہنگری میں ریفرنڈم کا ایسا فیصلہ پہلے سے تقسیم شدہ یورپ پر دباؤ میں اضافے کا سبب بنے گا۔ سن انیس سو پینتالیس میں مہاجرین کے بد ترین  بحران نے اور حال ہی میں برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء کے فیصلے نے یورپ کو کمزور کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے معاہدے کے ریفرنڈم میں مسترد کیے جانے سے امکان ہے کہ ہنگری کے وزیرِاعظم اوربان، جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی یورپ میں آزادانہ داخلے کی پالیسی کے بڑے مخالف کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اٹلی اور یونان میں پھنسے ہزاروں تارکین وطن اور مہاجرین کو یونین کے دیگر رکن ممالک میں آباد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس ’لازمی تقسیم‘ کے منصوبے کے تحت ایک لاکھ 60 ہزار مہاجرین کو دیگر ممالک میں منتقل کیا جانا تھا تاہم ہنگری سمیت کئی مشرقی اور وسطی یورپی ممالک کی مخالفت کے باعث یہ منصوبہ سست روی کا شکار تھا۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اب اس عمل میں تیزی لائی جا رہی ہے اور اگلے سال کے اواخر تک 30 ہزار مہاجرین کو یونان سے نکال کر دوسرے یورپی ممالک میں منتقل کر دیا جائے گا۔

DW.COM