1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہنگری کے دروازے بند، مہاجرین کا راستہ مزید طویل ہو گیا

ہنگری کے سرحدی راستے بند کر دیے جانے کے بعد کروشیا میں پھنسے مہاجرین اب سلووینیہ کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔ یہ مہاجرین آسٹریا اور جرمنی داخل ہونا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی نے بتایا ہے کہ ہنگری کی طرف سے سرحدی گزر گاہوں کو بند کرنے کی وجہ سے سینکڑوں مہاجرین مزید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جو سردی اور بارش کے باوجود مزید مغرب کی طرف سلووینیہ کی سرحد پر پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے شورش زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ مہاجرین پرسکون زندگی کی خاطر اس ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔

یورپی یونین کی چھوٹی سی رکن ریاست سلووینیہ اس قابل نہیں ہے کہ وہ مہاجرین کی بڑی تعداد کو انتظامی مدد فراہم کر سکے یا ان کا اندراج کر سکے۔ یہ مہاجرین آسٹریا اور جرمنی میں داخل ہونے کے لیے سلووینیہ کو صرف ایک راستے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق کروشیا کے علاوہ مقدونیہ اور سربیا میں داخل ہونے والے ہزاروں مہاجرین یورپی یونین کے امیر رکن ممالک میں داخل ہونے کی کوشش میں ہيں۔

سلووینیہ کی پولیس اہلکار سوزانا راؤئس نے ہفتے کے دن بتایا ہے کہ مہاجرین اور تارکین وطن سے بھری متعدد بسیں صبح سویرے سرحدی علاقے Petisovci پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامی کارروائی کے بعد ان افراد کو آسٹریا کی طرف روانہ کر دیا جائے گا۔

عراقی شہر موصل سے تعلق رکھنے والے تینتیس سالہ عمر ثقافہ نے اے پی کو بتایا، ’’ہمیں سربیا میں شدید سردی کا سامنا تھا۔ ہم اس وقت بھی سڑکوں پر ہیں۔ یہاں بہت سردی ہے۔‘‘ ان تمام مصائب کے باوجود عمر نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’انشاللہ ہم جرمنی جا رہے ہیں۔‘‘

سلووینیہ نے کہا ہے کہ بارڈر سکیورٹی بڑھائی جا رہی ہے اور ملک میں داخل ہونے والے افراد کے لیے مخصوص گزر گاہوں پر چیک پوائنٹس بنائے جائیں گے۔ لیوبلیانا حکومت نے یہ واضح بھی کیا ہے کہ جب تک آسٹریا اور جرمنی ان مہاجرین کے لیے اپنی سرحدوں کو کھلا رکھیں گے، تب تک انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت ہو گی۔

Ungarn schließt Grenze zu Kroatien

ہنگری نے کروشیا کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی ہے

ادھر کروشیا نے خبردار کر دیا ہے کہ اگر ہمسایہ ملک سلووینیہ نے سرحدی راستوں کو بند کیا تو وہ بھی سربیا سے متصل اپنے بارڈر کو بلاک کر دے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ زیادہ تر مہاجرین کروشیا سے ہنگری میں داخل ہونے کی کوشش میں ہیں۔ تاہم گزشتہ رات ہی ہنگری نے اپنی سرحدی گزرگاہوں کو بند کر دیا تھا۔ ہنگری میں وسط ستمبر سے اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار مہاجرین کا اندراج کیا جا چکا ہے۔

ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیاٹو نے اعتراف کیا ہے کہ سرحدوں کو اس طرح بند کر دینا ایک بہترین حل نہیں ہے لیکن اسے دوسرا بہترین حل کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی گزر گاہوں کو صرف غیر قانونی مہاجرین کے لیے بند کیا گیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے مابین سفر کرنے والے شہری اور سیاح متاثر نہیں ہوں گے۔