1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہنگری کا مسئلہ: مہاجرین کی مخالفت بھی، کارکنوں کی ضرورت بھی

ہنگری کی کم ہوتی ہوئی آبادی وزیر اعظم وکٹر اوربان کی مہاجرین مخالف حکومت کے لیے ایک دردِ سر بن گئی ہے۔ اوربان اپنے وطن میں مہاجرین کی آمد کے خلاف تو ہیں لیکن ہنگری کی معیشت میں افرادی قوت کی کمی بھی ہے۔

ہنگری نے 2004ء میں یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کے بعد سے اب تک اس کے چار لاکھ شہری ترک وطن کر چکے ہیں۔ گزشتہ پینتیس برسوں کے دوران ہنگری کے کام کاج کی عمر کے ساڑھے آٹھ لاکھ شہری دیگر یورپی ممالک میں سکونت اختیار کر چکے ہیں۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

1980ء کی دہائی کے بعد سے اس سابق کمیونسٹ ریاست میں بچوں کی پیدائش کی شرح بھی یورپ بھر میں سب سے کم ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر ملک کی مجموعی آبادی اب دس ملین یعنی ایک کروڑ سے بھی کم رہ گئی ہے۔

ہنگری کی معاشی صورتحال پر حال ہی میں ملکی صنعتوں اور آجروں کی تنظیم (MGYOSZ) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کی ایک چوتھائی صنعتوں کو مطلوبہ افرادی قوت تلاش کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’ہنگری کی معیشت کی گاڑی اس لیے نہیں چل سکتی کیوں کہ اس کے ٹائر ہی نہیں ہیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:27

تارکین وطن کے بارے میں پانچ اہم حقائق

مشرقی یورپی ملک ہنگری کی آبادی سے تین مزید افراد کم ہونے والے ہیں کیوں کہ ایک اور خاندان جلد ہی ملک چھوڑ کر جانے والا ہے۔ ایک کال سینٹر میں کام کرنے والے مارک سٹرن اور ان کی اہلیہ ریٹا، جو تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، اپنے نومولود بچے کے ساتھ عنقریب آئرلینڈ منتقل ہونے والے ہیں۔

بتیس سالہ ریٹا نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’وہاں ہمارے بہت سے دوست ہیں۔ ہم انگلش بول سکتے ہیں اور آئرلینڈ میں اچھی ملازمت حاصل کرنے کے کافی مواقع موجود ہیں۔‘‘

بوڈاپسٹ حکومت اپنے شہریوں کو واپس ہنگری لانے کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ وکٹر اوربان کی حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے ایک منصوبے کے تحت وطن واپس آنے والے ملکی شہریوں کو حکومت کی جانب سے فی کس تین ہزار یورو تحفے میں دیے جا رہے ہیں۔ پچھلے سال جون کے مہینے میں یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا لیکن اب تک صرف ایک سو لوگوں نے ہی اس ’نقد پیشکش‘ سے فائدہ اٹھایا ہے۔

ہنگری کے صنعتی ادارے حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ ملک میں افرادی قوت کی کمی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ لیکن ایسی حکومت، جو اپنی تشہیری مہم میں غیر ملکیوں کو خبردار بھی کر رہی ہو کہ وہ ہنگری میں کوئی ملازمت تلاش نہ کریں، وہ دوسرے ممالک سے اپنے ہاں افرادی قوت کیسے لائے گی؟

وکٹر اوربان بارہا کہہ چکے ہیں کہ ملک میں افرادی قوت کی کمی غیر ملکیوں، خاص طور پر مسلمان ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو پناہ دے کر پوری نہیں کی جا سکتی۔ تاہم اقتصادی امور کے ملکی وزیر میہائل وارگا کا کہنا ہے کہ ہنگری میں یورپی یونین کی رکنیت نہ رکھنے والے ممالک کے شہریوں کو کام کرنے کی اجازت دینے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

ہزاروں پناہ گزین اپنے وطنوں کی جانب لوٹ گئے

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

DW.COM

Audios and videos on the topic