1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہنگری: نئے میڈیا قوانین یورپی یونین کے لئے مسئلہ

ہنگری يکم جنوری سے پہلی بار يورپی يونين کا ششماہی صدر ہوگا۔ ہنگری ميں ذرائع ابلاغ کے نئے سخت تر قانون کے اسکينڈل کی وجہ سے يورپی يونين کے بہت سے سفارت کار ابھی سے ہنگری کی صدارت کو ايک سانحہ سمجھ رہے ہيں۔

default

يورپی کميشن اس وقت يہ چھان بين کررہا ہےکہ کيا ہنگری کا ذرائع ابلاغ کا نيا قانون يورپی قوانين سے مطابقت رکھتا ہے يا نہيں۔ حقيقت میں یہ ایک بہت ضروری کام ہے، جو اِس کميشن کو انجام دينا ہے۔ کميشن کے پاس ہنگری کو ميڈيا پر رياستی کنٹرول کے حوالے سے متنبّہ کرنے اوريہ واضح کرنے کے لئے اچھا خاصا وقت تھا کہ وہ ذرائع ابلاغ کی آزادی اور اس طرح يورپی بنيادی حقوق کی خلاف ورزی نہيں کرسکتا۔

OSZE kritisiert Mediengesetz in Ungarn

يورپی کميشن نے ابھی تک يہ واضح نہيں کيا ہے کہ ہنگری کا نیا قانون پريس کی آزادی کی خلاف ہے

ہنگری کا نيا ميڈيا قانون ذرائع ابلاغ کی آزادی پرايک قدغن ہے اور اس کی بہت سی علامات موجود ہيں۔ مثال کے طور پر ايک نگران محکمہ تشکيل ديا گيا ہے۔ یہ محکمہ ایک اعلی ترين نگران اور قانون ساز ادارے کی حيثیت سے مبہم ضوابط کی بنياد پر ذرائع ابلاغ پر بھاری جرمانے عائد کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی يہ نگران ادارہ پارليمانی کنٹرول سے بھی بالکل آزاد ہے۔

تاہم يورپی کميشن نے ابھی تک يہ واضح نہيں کيا ہے کہ ہنگری کا نیا قانون پريس کی آزادی کی خلاف ہے۔ اس طرح یہ نیا قانون يورپی يونين کے بنيادی حقوق کے منشور کی خلاف ورزی بھی ہے۔ ايسا معلوم ہوتا ہے کہ يورپی يونين ہنگری کے يونين کی صدارت سنبھالنے سے عين قبل کوئی ايسا واضح قدم نہيں اٹھانا چاہتی، جس کی وجہ سے بدمزگی پيدا ہو۔

ليکن يورپی کميشن اور اس کے رکن ملکوں کو ہنگری کو يہ صاف طور پر بتا دينا چاہئے کہ يورپی بنيادی حقوق پرسمجھوتہ نہيں ہوسکتا۔ خاص طور پر اس صورت ميں نہيں، جب ان کی خلاف ورزی کرنے والا ايک ملک يورپی يونين کی صدارت سنبھال رہا ہو، جس کے ذريعے وہ اگلے چھ ماہ تک اپنے ملکی ووٹروں کی مزيد ہمدردياں اور حمايت بھی حاصل کر سکتا ہے۔

Flash-Galerie Ungarn EU-Präsidentschaft Protest gegen Mediengesetze

ہنگری کو ذرائع ابلاغ کے نئے قانون کے حوالے سے یورپی یونین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے

يورپی کميشن کی يہ دليل تو بالکل ہی ناقص ہے کہ ميڈيا کے قوانين ہر رکن ملک کا انفرادی معاملہ ہے اور يہی صورت ہنگری کے سلسلے ميں بھی ہے۔ کيونکہ اگر بنيادی يورپی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو کسی رکن ملک کے قومی قوانين يورپی سطح پر ايک مسئلہ بن جاتے ہيں۔

اگر يورپی کميشن بہت جلد اس معاملے ميں مداخلت نہيں کرتا تو وہ اپنا اعتبار ہی کھوبيٹھے گا۔ پھر ميڈيا کی جائز تنقيد کا منہ بند کرنے والوں پر کون نکتہ چينی کرسکے گا۔ يورپی يونين کو ہنگری کی حکومت کو يہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ اپنی یورپی ذمہ داريوں کا لحاظ کرے۔

ڈوئچے ویلے کی تبصرہ نگار ڈورس زیِمونز کہتی ہیں کہ اس معاملے میں برسلز کو بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تبصرہ: ڈوُرِس زیمونز

ترجمعہ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس