1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہنگری میں مہاجرین کے سیلاب کے خلاف فوجی دستوں کی تعیناتی

یورپی یونین کے رکن ملک ہنگری کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ یورپ میں داخلے کے لیے بہت بڑی تعداد میں ہنگری کا رخ کرنے والے غیر ملکی تارکین کے سیلاب کو روکنے کے لیے ملکی سرحدوں پر فوجی دستے تعینات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

default

ہنگری کی پولیس فورس کو ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کی کی وجہ سے غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے

بوڈاپسٹ سے بدھ چھبیس اگست کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ بلقان کے خطے، خاص طور پر سربیا سے، جو یورپی یونین کا رکن نہیں ہے، غیر ملکی تارکین وطن کی آمد ایک سیلاب کی صورت اختیار کر چکی ہے اور اس سیلاب کو روکنے کے لیے اب ملکی حکومت نے قومی سرحدوں پر فوجی دستے تعینات کرنے کے علاوہ ہیلی کاپٹر، گھڑسوار پولیس اہلکار اور جاسوس کتے تک استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بوڈاپسٹ میں حکمران جماعت کے ایک رہنما اور قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے نائب سربراہ سیلارد نیمَیتھ نے صحافیوں کو بتایا، ’’حکومت چاہتی ہے کہ سرحدوں کی حفاظت اور غیر ملکی تارکین وطن کی آمد سے متعلقہ معاملات میں ملکی فوج کی تعیناتی کو ممکن بنایا جا سکے۔‘‘

نیمَیتھ کے مطابق اس سلسلے میں ایک پارلیمانی قرارداد پر رائے شماری ملکی قانون ساز ادارے کے آئندہ اجلاس میں ہو گی۔ پارلیمان کا یہ غیر معمولی اجلاس اگلے ہفتے ہو گا۔ اس اجلاس میں قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہنگری کی جنوبی سرحدوں کو زیادہ محفوظ بنانے کا فیصلہ اس لیے کیا جائے گا کہ اس وقت مشرقی یورپ کے اس ملک کی انہی سرحدوں سے بہت بڑی تعداد میں غیر یورپی مہاجرین یورپی یونین میں داخلے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ان میں بڑی اکثریت شامی اور عراقی مہاجرین کی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق یورپ کو یورپ کے باہر سے آنے والے تارکین وطن کے جس سیلاب کا سامنا ہے، وہ اب تک دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اس براعظم میں مہاجرین کے شدید ترین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

Ungarn Flüchtlinge am Grenzzaun zu Serbien

شامی مہاجرین سرحدی حفاظتی باڑ عبور کر کے ہنگری میں داخل یونے کی کوشش کرتے ہوئے

صرف اس سال کے دوران اب تک ترکی، بلقان کے خطے اور بحیرہ روم کے سمندری راستے سے یونین کے مختلف رکن ملکوں میں پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔ ان ریاستوں میں تارکین وطن کی سب سے بڑی تعداد کا سامنا یونان، اٹلی اور ہنگری جیسے ملکوں کو ہے۔

ہنگری، جو یورپی یونین کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ یونین کے آزاد سرحدی معاہدے شینگن میں بھی شامل ہے، اسی وجہ سے سربیا کے ساتھ اپنی قریب 175 کلومیٹر طویل سرحد پر ایک حفاطتی باڑ بھی تعمیر کر رہا ہے۔ ابھی یہ باڑ مکمل نہیں ہوئی اور ہنگری پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ صرف منگل پچیس جولائی کے دن پولیس نے سربیا سے ہنگری میں داخل ہونے والے ایسے ڈھائی ہزار سے زائد مہاجرین کو حراست میں لے لیا، جو ایک ریکاڑ تعداد ہے۔ ان میں سے زیادہ تعداد شامی، عراقی، افغان اور پاکستانی شہریوں کی تھی۔ یہی نہیں بلکہ آج بدھ کے روز صبح ساڑھے نو بجے تک ہنگری کی پولیس ایسے ہی مزید تیرہ سو سے زائد تارکین وطن کو بھی حراست میں لے چکی تھی، یعنی صرف دو دنوں میں قریب چار ہزار مہاجرین۔

DW.COM