1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہنگری میں قیدیوں سے مہاجرین کے خلاف نئی باڑ تعمیر کروا لی گئی

ہنگری نے قیدیوں کی مدد سے سربیا کی سرحد پر مہاجرین کو روکنے کے لیے ایک نئی باڑ تعمیر کر لی ہے۔ ہنگری نے مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے لیے اپنی جنوبی سرحد بند کر دی تھی۔

پیر کے روز ہنگری کے سرکاری ٹی وی چینل نے بتایا کہ سربیا کے ساتھ سرحد کی مکمل بندش کے لیے نئی باڑ کی تعمیر قیدیوں کی مدد سے مکمل کی گئی۔

رواں برس اگست میں ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اوربان نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس سرحد پر ایک اور باڑ تعمیر کریں گے تاکہ گزشتہ برس 175 کلومیٹر سرحد پر تعمیر کردہ خاردار تار کی دیوار کو زیادہ مضبوطی مل سکے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس نئی باڑ کی تعمیر میں انتہائی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، جب کہ تین میٹر اونچی اس خار دار دیوار کی تعمیر کے لیے مختلف جیلوں کے قیدیوں کو استعمال میں لایا گیا ہے۔ ایک ماہ قبل اس باڑ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا تھا، جب کہ قریب ساڑھے دس کلومیٹر طویل اس جدید باڑ کا پہلا حصہ تعمیر کر لیا گیا ہے۔

اس باڑ میں لگے خصوصی سینسرز کی مدد سے حدت اور تحریک دونوں کو ماپا جا سکے گا، جب کہ تاریکی میں دیکھنے کی صلاحیت کے حامل کیمرے بھی اس باڑ پر نصب کر لیے گئے ہیں۔ اس باڑ کی تعمیر کے بعد ہنگری کو امید ہے کہ اسے سرحد پر کم فوجی اور پولیس اہلکار درکار ہوں گے۔

Ungarn baut Zaun zu Kroatien (Reuters/B. Szabo)

ہنگری نے سربیا کے ساتھ اپنی سرحد بند کر رکھی ہے

ہنگری کو خدشات ہیں کہ رواں برس مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والی ڈیل ختم ہو سکتی ہے اور مہاجرین ایک مرتبہ پھر بحیرہء ایجیئن کے راستے مغربی یورپ کا رخ کرتے ہوئے راستے کے طور پر ہنگری کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اوربان کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے لیے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ڈیل کے خاتمے سے قبل ملکی سرحد کو محفوظ تر بنایا جانا نہایت ضروری ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین دوست پالیسی کے برعکس ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اوربان مہاجرین کے سخت مخالف ہیں اور وہ انگیلا میرکل کی مہاجرین کے لیے فراغ دلانہ پالیسی کے بڑے ناقد ہیں۔ یورپی یونین کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کا مہاجرین کا سب سے بڑا بحران لاحق ہے، جب کے اس موضوع پر یورپی یونین کی رکن ریاستوں کے درمیان واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔