1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہنگری میں غیرقانونی داخلے پر دس مہاجرین کو سزائے قید

ہنگری کی ایک عدالت نے گزشتہ برس غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے دس مہاجرین کو سزائیں سنا دی ہیں۔ یہ مہاجرین ستمبر 2015ء میں سرحدی محافظوں کے ساتھ ایک مبینہ جھڑپ کے بعد سربیا سے ہنگری میں داخل ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ ہنگری میں اس طرح مہاجرین کو سزا سنائے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ حال ہی میں ہنگری میں ایک نیا قانون منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت غیر قانونی طور پر ملکی سرحد عبور کرنا قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا تھا۔ اس جرم کی سزا ایک تا پانچ برس سزائے قید رکھی گئی ہے۔

گزشتہ برس ستمبر میں اس طرح مہاجرین کے سربیا سے ہنگری میں داخل ہونے کے بعد بوڈاپیسٹ حکومت نے سربیا سے متصل اپنی سرحدی گزرگاہوں پر خاردار رکاوٹیں لگانے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔

روئٹرز نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ نو مہاجرین کو ایک ایک سال کی سزائے قید سنائی گئی لیکن جج نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں رہا کر دیا۔ ان مہاجرین کی رہائی کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ گزشتہ برس ستمبر سے حراست میں ہی تھے۔

ایک مہاجر کو تین برس کی سزائے قید سنائی گئی ہے، جو ابھی تک جیل میں ہے۔ اس پر الزام تھا کہ وہ نہ صرف غیر قانونی طور پر ہنگری میں داخل ہوا بلکہ اس نے لاؤڈ اسپیکر پر دیگر مہاجرین کو سرحد عبور کرنے کے لیے ہدایات بھی جاری کی تھیں۔

جمعے کے دن سنائے جانے والے اس عدالتی فیصلے کے مطابق ان مہاجرین نے ہنگری اور یورپی یونین کی طرف سے سرحدوں کی مؤثر نگرانی نہ کر سکنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہنگری میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جو ایک جرم ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ان مہاجرین کی سزا ختم ہونے کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا جبکہ ان کے کئی سالوں تک دوبارہ اس یورپی ملک میں داخل ہونے پر بھی پابندی ہو گی۔

دوسری طرف وکیل صفائی نے کہا ہے کہ یہ مہاجرین مجرم نہیں بلکہ عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں کہ یہی مہاجرین ہنگری کی سرحدی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں شامل تھے۔

Deutschland ungarische Soldaten schließen den Grenzzaun zu Serbien bei Roszke

گزشتہ برس مہاجرین اور تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد سربیا کے راستے ہنگری میں داخل ہوئی تھی

گزشتہ برس مہاجرین اور تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد سربیا کے راستے ہنگری میں داخل ہوئی تھی۔ مہاجرین کے اس بحران کی شدت کے باعث ہی ہنگری نے سربیا کے ساتھ اپنی سرحدوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں تاکہ ملک میں غیر قانونی داخلے کو روکا جا سکے۔

گزشتہ برس سولہ ستمبر کو سربیا سے ہنگری میں داخل ہونے والے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق شام سے تھا۔ اس وقت ان مہاجرین نے سرحدی راستے پر دھاوا بول کر سرحد عبور کرنے کی کوشش کی تھی۔ تب سرحدی محافظوں نے ان مہاجرین کو روکنے کی خاطر آنسو گیس کے علاوہ تیز دھار پانی بھی استعمال کیا تھا۔