1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہنگری میں تارکین وطن کی غیر ضروری حراست

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور تارکین وطن کی حمایت میں فعال لوگوں کا کہنا ہے کہ ہنگری پناہ گزینوں کو غیر ضروری طور پر حراست میں رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے انہیں علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہیں ہو پا رہیں۔

ہنگری کی ہیلسنکی کمیٹی برائے مہاجرین کے سربراہ گابور جولائے کا کہنا ہے کہ ہنگری کی جانب سے تارکین وطن کو غیر ضروری طور پر حراست میں لیا جانا ایک عمومی عمل بن چکا ہے اور تارکین وطن کے لیے بنائے گئے استقبالیہ مراکز میں ان کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

درجنوں پاکستانی تارکین وطن یونان سے ترکی ملک بدر

رضاکارانہ طور پر واپس جاؤ، بائیس سو یورو ملیں گے

جولائے کا مزید کہنا تھا، ’’ہنگری کا شمار یورپی یونین کے ان چند رکن ممالک میں ہوتا ہے جہاں آنے والے نئے تارکین وطن کو حراست میں لیا جاتا ہے۔‘‘ گابور جولائے کے مطابق یکم فروری سے اب تک 443 پناہ گزینوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے چالیس فیصد کا تعلق شام، عراق اور افغانستان سے ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:04

اڈومینی کا مہاجر کیمپ ’ڈخاؤ کے اذیتی کیمپ جیسا‘

ہیلسنکی کمیٹی اور تارکین وطن کو نفسیاتی مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے مشاورت فراہم والی کورڈیلیا فاؤنڈیشن کی جانب سے پیش کردہ مشترکہ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ پہلے سے تشدد کے شکار اور صدمہ زدہ پناہ گزینوں کو فراہم کردہ قانونی تحفظ غیر موثر ہے جس کی وجہ سے قید کے دوران ان کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ حراستی مراکز میں تعینات عملے عموماﹰ کم تربیت یافتہ ہوتا ہے اور ان پر قیدیوں سے ناروا سلوک رکھنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

کورڈیلیا فاؤنڈیشن کی میڈیکل ڈائریکٹر اور ماہر نفسیات لِلا ہارڈی کا کہنا ہے کہ نفسیاتی معالجین کو علاج کرنے کے لیے مریضوں کا اعتماد حاصل کرنا پڑتا ہے کیوں کہ تشدد کی وجہ سے صدمہ زدہ تارکین وطن اپنی نفسیاتی صورت حال کی وجہ سے کسی دوسرے پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

ماہرین نے ہنگری کے حکام کی جانب سے نفسیاتی معالجوں کو زیر حراست پناہ گزینوں تک رسائی کی اجازت دینے کا خیر مقدم کیا ہے تاہم انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ پناہ کے متلاشی افراد کو دوران قید مترجم فراہم کرنے کے علاوہ انہیں انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے اہل خانہ سے بات چیت کرنے کی اجازت بھی دی جائے۔

رپورٹ مرتب کرنے والے دونوں اداروں نے ہنگری کے علاوہ بلغاریہ کے حراستی مراکز کا بھی جائزہ لیا ہے۔ لکھا گیا ہے کہ بلغاریہ کی حدود میں داخل ہونے والے پناہ کے متلاشی افراد کو اٹھارہ ماہ تک قید میں رکھا جاتا ہے۔

میرکل نے بالآخر مہاجرین دوست پالیسی پر یوُ ٹرن لے لیا

یورپ میں پناہ کے متلاشیوں میں اڑتالیس ہزار پاکستانی بھی

DW.COM

Audios and videos on the topic