1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہنگری مہاجرین کی تقسیم کے عدالتی فیصلے کا احترام کرے، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ہنگری پر زور دیا ہے کہ وہ مہاجرین کی تقسیم سے متعلق یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کا احترام کرے۔ فیصلے میں یونین کی رکن ریاستوں کو کہا گیا ہے کہ وہ مہاجرین کو اپنے ہاں قبول کریں۔

یورپی کمشین نے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کو رکن ریاستوں میں تقسیم کرنے سے متعلق منصوبہ بنایا تھا، تاہم سلواکیہ اور ہنگری نے اس تقسیم کے خلاف یورپی عدالت میں درخواست دائر کر دی تھی۔ گزشتہ ہفتے یورپی عدالت نے یہ شکایات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یونان اور اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی رکن ریاستوں میں تقسیم سے متعلق یورپی کمیشن کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

’مہاجرین کو پناہ دینے پر مجبور کرنا یکجہتی نہیں تشدد ہے‘

ہنگری اور سلوواکيہ کو پناہ فراہم کرنی پڑے گی، يورپی عدالت

عدالتی اصلاحات کے قانون کو ویٹو کر دوں گا، پولستانی صدر

ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اوربان نے اس عدالتی فیصلے کے بعد جمعے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ان کی حکومت مہاجرین سے متعلق اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرے گی۔ وکٹور اوربان مہاجرین کے سخت مخالف سمجھے جاتے ہیں اور وہ اس سے قبل بھی مسلمانوں اور مہاجرین سے متعلق متعدد متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرمن اخبار برلینر سائٹنگ سے بات چیت میں پیر کوکہا کہ ہنگری کو عدالتی فیصلے پر ہرحال میں عمل درآمد کرنا ہو گا۔ ’’یہ ناقابل قبول ہے کہ یورپی یونین کی ایک رکن ریاست یورپی عدالت برائے انصاف کے فیصلے ہی کو خاطر میں نہیں لا رہی۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:28

سرحد پار کرنے کی کوشش ’مہنگی‘ پڑ سکتی ہے

جب میرکل سے سوال پوچھا گیا کہ کیا ایسی صورت میں ہنگری کو یورپی یونین سے اخراج کا سامنا ہو گا، میرکل کا کہنا تھا، ’’اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یورپ کے ایک بنیادی نکتے کو چھیڑ دیا گیا ہے۔ میرے خیال میں یورپ قانون کی حکم رانی کا خطہ ہے۔ اکتوبر میں یورپی کونسل کے اجلاس میں اس پر ضرور بات کی جائے گی۔‘‘

Ungarn Viktor Orban Premierminister (Getty Images/S. Gallup)

اوربان اس سے قبل بھی مہاجرین سے متعلق متنازعہ بیانات دیتے رہے ہیں

واضح رہے کہ سن 2015 میں مہاجرین کے بحران کے عروج کے دنوں میں جب لاکھوں افراد بلقان ریاستوں سے مغربی یورپ کا رخ کر رہے تھے، ہنگری وہ پہلا ملک تھا، جس نے اپنی سرحدیں مہاجرین کے لیے بند کی تھیں۔ یورپی کمشین نے یورپی یونین پہنچنے والے ان لاکھوں افراد کو مختلف ممالک میں تقسیم کرنے سے متعلق ایک لازمی کوٹہ تشکیل دیا تھا، تاہم ہنگری اور متعدد دیگر مشرقی یورپی ممالک کی جانب سے اس کوٹے کو منظور نہ کرنے کی وجہ سے مہاجرین کی تقسیم انتہائی سست روی کا شکار رہی ہے۔

 

DW.COM

Audios and videos on the topic