1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہنگری: مزید کیمیاوی مادہ خارج ہونے کا خدشہ

سرخ زہریلے کیچڑ کے مزید پھیلاؤ کے خدشے کے تحت ہنگری کا کولونٹار نامی ایک اور گاؤں خالی کرا لیا گیا ہے۔ وزیراعظم وکٹر اوربان نے ہفتہ کو اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زہریلے مادے کے ذخیرے کی دیوار ٹوٹ سکتی ہے۔

default

ہنگری کے متاثرہ علاقوں میں صورتحال گزشتہ رات اس وقت مزید خطرناک ہو گئی، جب زہریلے کیمیاوی مادے کے ذخیرے کی دیواروں میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں۔

ہنگری کے وزیراعظم نے ہفتے کے دن ایک نئی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا، ’اگردیوار میں پڑنے والے معمولی شگاف مزید بڑے ہوئے تو یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور اس زہریلے مادے سے مزید تباہی پھیلنے کا خدشہ ہوگا۔‘

انہوں نے تسلیم کیا کہ اس حادثے کا سبب کچھ انسانی غلطیاں ہیں تاہم انہوں نے زور دیا کہ وہ یہ تمام غلطیاں عوام کے سامنے پیش کریں گے اور ذمہ داروں کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

Ungarn Aluminiumfabrik Unfall NO-FLASH

ہنگری میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس زہریلے سرخ مادے کی وجہ سے بے گھر بھی ہوئے ہیں

وکٹر اوربان نے بتایا کہ ممکنہ خطرے کے تحت کولونٹار گاؤں سے سات سو دس افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ممکنہ طور پر یہ زہریلا فضلہ منگل کو کولونٹار پہنچے گا۔ ایک اندازے کے مطابق ابھی تک ایک ملین کیوبک میٹر زہریلا مادہ خارج ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں کم ازکم سات افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اس سرخ زہریلے کیچڑ کے نتیجے میں سینکڑوں افراد بے گھر بھی ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف امدادی کارکن اس ذخیرے کے گرد تیس میٹر طویل ایک اور دیوار تعمیر کر رہے ہیں تاکہ اگراس ذخیرے کی کوئی دیوار ٹوٹے تو زہریلا مادہ مزید نہ پھیلے۔

اس زہریلے مادے کے دریائے ڈینیوب اور دیگر آبی ذخائر میں شامل ہونے سے ہمسایہ ممالک خبردار ہو چکے ہیں۔ ماحولیاتی اداروں نے اس کے دوررس نتائج سے خبردار کیا ہے جبکہ یورپی یونین نے بھی ہنگری میں اس تباہی کو پیچیدہ ماحولیاتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ زہریلا مادہ دریائے ڈینیوب کے ساتھ واقع دیگر ممالک تک پھیل سکتا ہے۔ ماہرین ماحولیات نے کہا ہے کہ اس کیمیاوی مادے کے پانی میں شامل ہونے سے نہ صرف آبی حیات کو خطرہ لاحق ہو جائے گا بلکہ زیر زمین پانی کے ذخیرے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ کیمیاوی فضلہ منگل کو المونیم کے ایک پلانٹ سے حادثاتی طور پر بہہ نکلا تھا، جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ یہ واقعہ دارالحکومت بوڈاپیسٹ سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔

No Flash Ungarn Schlamm Hochwasser

حکومت کی کوشش ہے کہ اس خطرناک کیمیاوی مادے سے دور رس اثرات پیدا نہ ہوں

دوسری طرف ڈبلیو ڈبلیو ایف سے منسلک ماہر ماحولیات نے انکشاف کیا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے ذخیرے سے کیمیاوی مادے کا اخراج جون سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسے شواہد ہیں ، جن سے وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ واقعہ اچانک رونما نہیں ہوا بلکہ یہ دانستہ انسانی غلطی کا نتیجہ ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM