1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہنگری: قدامت پسند جماعت کی زوردار کامیابی

جمہوریہء ہنگری مشرقی یورپ کے عین وَسط میں واقع ملک ہے، جس کا دارالحکومت بوڈا پیسٹ ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو اتحاد کے رکن اِس ملک کے پارلیمانی انتخابات میں اپوزیشن جماعت بے مثال کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے۔

default

الیکشن جیتنے والے لیڈر: وکٹور اوربان

ہنگری میں پارلیمانی انتخابات اتوار 25 اپریل کو ہوئے۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق ان پا رلیمانی الیکشنز میں قدامت پسند اپوزیشن جماعت فیڈیس (Fidesz ) نے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ کامیابی کی رپورٹس سرکاری الیکشن کمیشن کے دفتر سے موصولہ اعدادوشمار پرمبنی ہیں۔ یہ نتائج ڈالے گئے اٹھانوے فی صد ووٹوں کی گنتی کے مکمل ہونے پر جاری کئے گئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم وکٹور اُوربان کی جماعت فیدیش ر ائے شماری کے دوسرے مرحلے میں خود کو پہلے سے حاصل اپنی محفوظ اکثریت میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنے اور کُل 386 میں سے 263 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ ہنگری کا دارالحکومت رات گئے تک وکٹر وکٹر کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ کامیاب لیڈر نے اپنے مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری روایات کے مطابق

NO FLASH Wahlen Ungarn 2010 NO FLASH

وکٹور اوربان: انتخابی مہم کے دوران

وہ ایک بڑی تبدیلی کی منزل پر پہنچ گئے ہیں۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اوربان نے ملک کی تعمیر نو کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نےسابقہ انداز حکومت پر تنقید بھی کی۔

اوربان نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ وہ معاشی طور پر بدحالی کے شکار ملک کو ایک بار پھر ’طاقتور‘ ہنگری میں تبدیل کر دیں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اتنی بڑی اکثریت کے ساتھ نئی حکومت کے سربراہ اور نو منتخب وزیر اعظم وکٹور اُوربان ہنگری کے بنیادی انتظامی ڈھانچے میں دور رس تبدیلیاں لانے کے اہل ہیں۔

عوام نے ان انتخابات میں آٹھ سال تک ہنگری پر حکومت کرنے والی سوشلسٹ جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔ اب سوشلسٹ پارٹی اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی۔ پارٹی کی لیڈر Ildiko Lendvai نے اپنی جماعت کی شکست تسلیم کرتے ہوئے کامیاب جماعت کے سربراہ کو مبارک باد کا

Fidesz-Anhänger jubeln nach Wahlsieg

ہنگری: فڈش پارٹی کے کارکن الیکشن جیتنے کے بعد

پیغام بھی دیا اور پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا بھی اعلان کیا۔ آئندہ پارلیمان میں اب تک حکومت کرنے والی وزیر اعظم گورڈون بوئے نوئے کی سوشلسٹ پارٹی کی نمائندگی محض اُنسٹھ ارکان کریں گے۔

دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت جوبِک، جسے اب تک پارلیمان میں کسی بھی سابقہ الیکشن میں نمائندگی حاصل نہیں ہو سکی تھی، وہ سینتالیس نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ جوبک انتہاپسند جماعت کو پہلی بار پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا موقع ملے گا۔ یہ چیز بھی ہنگری کے سیاسی منظر پر تبدیلی کی عکاس ہے۔ اس الیکشن میں یہ انتہاپسند جماعت تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ ایک نئی پارٹی لبرل گرینز (LMP)کو سولہ نشستیں ملی ہیں۔

حالیہ انتخابات کے بعد ہنگری کے دستور کے تحت نئی پارلیمنٹ کا افتتاحی اجلاس اگلے دو ہفتوں کے اندر اندر طلب کیا جائے گا۔ وکٹور اُوربان کی حکومت سازی کا عمل بیس مئی تک مکمل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عابد حسین