1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہنگری: اوربان کا مہاجرین سے متعلق نئے سخت قانون کا دفاع

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں مہاجرین سے متعلق نئے اور سخت قانون کا دفاع کیا ہے۔

ہنگری میں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے متعارف کرائے گئے نئے قانون کے تحت ان مہاجرین کو حراست میں لیا جا سکتا ہے، جب کی اس گرفتاری کا دائرہ 14 برس سے زائد عمر کے نابالغ افراد تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ ان افراد کو سربیا کی سرحد کے قریب شپنگ کنٹینرز میں رکھا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے ان قوانین کو خواتین، بچوں اور مردوں کے لیے سخت جسمانی اور نفسیاتی دباؤ کا باعث قرار دیا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق یہ مہاجرین پہلے ہی شدید نوعیت کے حالات کا شکار ہو چکے ہیں اور ایسے میں ان افراد کے ساتھ ایسا رویہ نہایت نامناسب ہے۔

وکٹور اوربان نے تاہم یہ تنقید رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون یورپی یونین کے قانونی معیارات سے مطابقت رکھتا ہے۔ اوربان نے اس تنقید کو رد کیا، جس میں کہا جا رہا تھا کہ مہاجرین کو سرحدی علاقوں میں ٹرانزٹ زون میں بند نہیں کرنا چاہیے۔  ’’کوئی بھی زیرحراست نہیں۔ اس لیے ایسے مہاجرین جو ان ٹرانزٹ زونز میں رک کر سیاسی پناہ سے متعلق اپنی درخواستوں پر فیصلوں کا انتظار نہیں کر سکتے، واپس سربیا چلے جائیں۔‘‘

برسلز میں یورپی یونین کی سمٹ میں شرکت کے بعد اوربان نے کہا، ’’ہم کسی کو کہیں بھی بند نہیں کر رہے۔‘‘

اوربان  اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی عوامی سطح پر حمایت کرتے آئے ہیں۔ اوربان نے کہا کہ یورپی سربراہی اجلاس میں کسی رہنما نے ہنگری میں ان نئے قوانین کی مخالفت نہیں کی، تاہم وہ یورپی کمیشن سے اس موضوع پر بحث کی توقع کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ہنگری میں متعارف کرائے گئے نئے قانون کے تحت کسی بھی ایسے مہاجر کو جو ہنگری میں سکونت کے اپنے قانونی حق کو ثابت نہ کر سکے، خود بہ خود سربیا واپس بھیجا جا سکے گا۔ اوربان حکومت نے مہاجرین کے بحران کے تناظر میں ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ کیا تھا، جس کی مدت میں حال ہی میں توسیع کر کے اسے سات ستمبر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ ہنگری نے سربیا کی سرحد پر باڑ بھی قائم کر رکھی ہے، جب کہ وہاں کیمروں اور سینسرز کے ذریعے سخت ترین نگرانی بھی جاری ہے۔