1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہنڈوراس کی عبوری حکومت پر امریکی دباؤ

واشنگٹن نے لاطینی امریکہ کے غریب ترین ملک ہنڈوراس کی چار اعلٰی شخصیات کے سفارتی ویزوں کو واپس لے لیا ہے، جبکہ واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ نے ہنڈوراس کی عبوری حکومت کو ماننے سے بھی انکار کردیا ہے۔

default

معزول جلاوطن صدر سیلایا

لاطینی امریکہ کے ملک ہنڈوراس میں سیاسی انتشار دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ ہنڈورس کے معزول صدر مانوئل سیلایا اور عبوری حکومت کے سربراہ رابرٹو مشیلیٹی کے درمیان تنقیدی بیانات کے تبادلے سے صورتحال مزید بگڑتی جارہی ہے۔ تاہم ہنڈوراس کی سڑکوں پر سیلایا کے حامیوں کی جانب سے کئے گئے مظاہروں اور اب واشنگٹن کی جانب سے مشیلیٹی حکومت کو نہ ماننے کے نتیجے میں ملکی حالات نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔

امریکہ وزارت خارجہ کے ترجمان این کیلی نے آج بدھ کے روز واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں ہنڈورس کے معزول صدر سیلایا کی پوری حمایت کا اعلان کیا۔ کیلی نے ہنڈوراس کی موجودہ حکومت اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والے چار شہریوں کے اعلٰی سفارتی ویزوں کو بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

اسی دوران ہسپانوی وزیر خارجہ میغؤل موراتینوس نے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین کو بھی ہنڈوراس کی عبوری حکومت کے خلاف ایسے ہی کچھ اقدامات اٹھانے کے لئے راضی کریں گے۔ موراتینوس ان دنوں وینیزویلا کے دورے پر ہیں۔

Proteste Honduras

سیلایا کے حامی مظاہرین اور حکومتی فورسز

دوسری طرف سپریم کورٹ اور ملکی کانگریس کی حمایت یافتہ ہنڈوراس کی عبوری حکومت نے معزول صدر سیلایا کے حق میں بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کردیا ہے۔ ہنڈوراس کے معزول صدر سیلایا 28 جون کو ہوئی بغاوت کے بعد سے ملک بدر کر دئے گئے تھے اور اب وہ نکاراگوا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

واشنگٹن حکومت کی جانب سے اس اعلان کے فوری بعد سیلایا نے اپنی ماں، بیوی اور بچوں کی بازیابی کے لئے مذاکراتی کوششیں شروع کردی ہیں۔ ہنڈوراس میں بغاوت کے بعد عبوری حکومت نےسیلایا کے خاندان کو اپنی قید میں کرلیا تھا۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ ماہ سیلایا کو آئین میں ترمیم کر تے ہوئے اپنے اختیارات کو وسیع تر کرنے کے الزام گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

امریکہ وزارت خارجہ نے ہنڈوراس کی عبوری حکومت کے خلاف اس حالیہ اقدام سے پہلے لاطینی امریکہ کے اس غریب ترین ملک کی 16.5 ملین ڈالرز کی دفاعی امداد دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔ ورلڈ بینک اور بین الا مریکی ترقیاتی بینک نے بھی ہنڈوراس کو 200 ملین ڈالر قرض کو فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔



رپورٹ: انعام حسن

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM