1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہنوور کا صنعتی میلہ: جنوبی کوریا خصوصی پارٹنر

ان دنوں جرمنی کے شمالی شہر ہنوور میں دنیا کی سب سے بڑی صنعتی نمائش Hannover Messe کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس سال خصوصی پارٹنر ملک جنوبی کوریا ہے۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل جنوبی کوریا کے وزیراعظم Han Seung Soo کےہمراہ مشترکہ طور پر نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے

ہنوور صنعتی نمائش میں شامل جنوبی کوریا کے وزیر معیشت اور نگران برائے صنعت و تجارت Youn Ho Lee نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو میں جنوبی کوریا اور جرمنی کے درمیان تجارتی شراکت اور ہنوور نمائش کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

جرمنی تمام یورپی ممالک میں سے جنوبی کوریا کا سب سے بڑا تجاری ساتھی ہے۔ جنوبی کوریا میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے بھی یورپی ممالک میں سے جرمنی ہالینڈ کے بعد دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ دونوں ممالک کی معیشتوں کا بڑا انحصار صنعتی مصنوعات کی برآمد پر ہے۔

جنوبی کوریا کے وزیر برائے اقتصادی امور اور صنعت و تجارت کے نگران یوان ہو لی نے موجودہ عالمی بحران اور سئیول حکومت کی توقعات و منصوبہ بندی کے حوالے سے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کی۔

Interview mit Wirtschaftsminister Youn Ho Lee

جنوبی کوریا کے وزیر برائے معیشت یوان ہو لی ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کے دوران

یوان ہو لی کا کہنا ہے کہ صنعتی منصوبہ سازی اور مشینری کے لحاظ سے جرمنی دنیا بھر میں سرفہرست ملک ہے جب کہ جنوبی کوریا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دنیا کے بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے لہذا جرمنی اور جنوبی کوریا کو ایک دوسرے کے تعاون سے بہت مدد ملتی ہے۔

جرمن کمپنیاں، سیمینز اور دنیا بھر میں کیمیائی مصنوعات کی سب سے بڑی فرم BASF گزشتہ کئی سالوں سے جنوبی کوریا سے تجارتی شراکت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

جنوبی کوریا کے وزیر معیشت کا کہنا ہے کہ اس بار ہنوور کی یہ نمائش عالمی اقتصادی بحران کے سائے میں ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں صنعتی مشینری کی کھپت میں لگ بھگ دس فیصد کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

’’جرمنی اور جنوبی کوریا اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔ دونوں ممالک کی معیشتوں کو اس سال کساد بازاری کا سامنا رہے گا۔ دوسرے ممالک کی طرح جنوبی کوریا نے بھی اس بحران سے بچنے کے لئے 17 بلین یورو کے ایک مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے تاکہ کمپنیوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ملازمتوں کو بھی بچایا جا سکے۔‘‘

لی نے مزید کہا:’’ ہم اس بحران سے فوری طور پر نمٹنے کے لئے داخلی سطح پر کھپت میں اضافے کا سوچ رہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ صرف ملک کے اندر اشیاء کی کھپت سے بحران سے نکلنا ناممکن ہے۔ اسی لئے جرمنی اور جنوبی کوریا مل کر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی ضروریات کو بھی پورا کریں اور ساتھ ہی ساتھ معیشت کو مذید ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ہنوور کی یہ نمائش خریداروں کو متوجہ کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔