1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہنوئے میں ایشیا یورپ اجلاس شروع ہو گیا

ویت نام کے دارلحکومت ہنوئے میں آج پیرکے روز سے نواں ASEM یعنی ایشیا یورپ اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس میں 45 ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کررہے ہیں۔

default

یہ فورم ایشیا اوریورپ کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے

اس دو روزہ اجلاس کے پہلے دن عالمی اقتصادی کساد بازاری کو کم کرنے اورمعاشی استحکام کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور متعدی بیماریوں مثلا سوائن فلو جیسے موضوعات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔

1996ء میں قائم ہونے والا یہ فورم ایشیا اوریورپ کے درمیان ذرائع ابلاغ ، مذاکرات اور خصوصی طور پراقتصادی مسائل جیسے موضوعات پر کثیرالفریقی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔

دوسری طرف ہنوئے میں ہونے والے اس اجلاس میں یورپی ممالک نے میانمار میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائی اور ساتھ ہی جمہوریت پسند اپوزیشن لیڈرآنگ سان سوچی پر چلائی جانے والی عدالتی کارروائی پرتنقید بھی کی۔

اس اجلاس کے موقع پر یورپی یونین اور میانمار کے وفد کے درمیان ایک ملاقات بھی ہوئی، جو تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ اس ملاقات میں آنگ سان سوچی کی حراست اور آنے والے انتخابات کے بارے میں گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر جمہوریہ چیک کے وزیر خارجہ Jan Kohout نےمیانمار کی حکومت سے آنگ سان سوچی اور ان کے دیگر زیرحراست ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ اسی اجلاس میں سویڈن کے وزیر خارجہ Carl Bildt نے بتایا کہ 2010ء میں ہونے والے مجوزہ انتخابات کے لئے آنگ سان سوچی کی رہائی کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کو کامیاب بنانے کے لئے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات اوران کو مکمل سیاسی اور فکری آزادی دیئے جانا بھی ضروری ہے۔

یاد رہے کہ سوچی اپنی نظربندی کی خلاف ورزی کرنے کے نتیجے میں مقدمے کا سامنا کر رہی ہیں۔ سوچی نے گذشتہ بیس میں سے چودہ سال جیل اور بقیہ سال اپنے گھر میں نظر بند رہ کر گزارے ہیں۔ میانمار میں 1990ء میں ہونے والے انتخابات میں سوچی کی جماعت National League For Democracy یعنی نیشنل لیگ برائے جمہوریت نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی، تاہم اس وقت کی فوجی حکومت نے انتخابات کے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس اجلاس کے موقع پر شمالی کوریا کے دوسرے جوہری تجربے کے اعلان کے بعد ہنوئے میں چین، جنوبی اورشمالی کوریا کے مندوبین کی ایک علیحدہ ملاقات بھی ہوئی۔ ایشیا یورپ میٹنگ میں یورپی یونین کے تقریبا تیس وزرائے خارجہ سمیت چین، جاپان، جنوبی کوریا بھارت اور پاکستان کے وزرائے خارجہ بھی شامل ہیں۔