1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہنزہ میں چار گاؤں مکمل طور پر زیر آب

وادی ہنزہ میں عطاءآباد کے مقام پر دریامیں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی مصنوعی جھیل میں پانی کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گلگت اور گوجال نامی گاؤں سے آبادی کے انخلاءکا سلسلہ جاری ہے۔

default

ہنزہ کی حسین وادی لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ویران ہوتی جا رہی ہے۔ تیزی سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں

حکام کے مطابق جمعے کے روز جھیل کی لمبائی28 کلومیٹر جبکہ اس میں پانی کی سطح 325 فٹ کی بلندی تک پہنچ گئی ہے اس کے نتیجے میں اب تک 4 گاؤں مکمل طور پر زیر آب آ چکے ہیں جبکہ گلگت اور گوجال نامی گاؤں سے آبادی کے انخلاءکا سلسلہ جاری ہے۔

ان علاقوں سے محفوظ مقام کی طرف نقل مکانی کرنے والے لوگوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد ان کی بحالی کےلئے اقدامات کریں۔ جھیل کے حجم میں اضافے کے سبب پاکستان اور چین کو ملانے والی شاہراہ قراقرم کا ایک بڑا حصہ بھی زیر آب آ گیا ہے جس سے نہ صرف چین اور پاکستان کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے بلکہ اندرون ملک اس علاقے کے آرپار بسنے والے افراد بھی اپنے علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

Erdbeben in Pakistan

بالاکوٹ میں آنے والے زلزلے کے پانچ سال گزرنے کے بعد بھی مقامی آبادی کو دوبارہ گھر بار نصیب نہیں ہو سکا ہے

اس صورتحال پر قابو پانے کےلئے سرکاری سطح پر کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایک مقامی افسر عبداللہ جان نے بتایا کہ ایک بڑا پل جھیل کے پانی کی نذر ہو چکا ہے اور اب پانی کی سطح نیچے آنے کے بعد ہی سڑک کی بحالی کا کام شروع ہو سکے گا۔

ادھر گلگت میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مصنوعی جھیل کے سبب ممکنہ تباہی کے معاملے کو سنجیدگی سے نہ لینے پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ غالباً اسی سبب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعے کے روز متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کرنا تھا جو بعد ازاں موسم کی خرابی کے سبب ملتوی کر دیا گیا۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان بریگیڈیئر ساجد نعیم کا کہنا ہے کہ جھیل سے پانی کے محفوظ اخراج کےلئے اسپل وے کا تعمیراتی کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق پانی کے بہاؤ میں آنے والے مزید ممکنہ مقامات سے بھی لوگوں کی نقل مکانی کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے اور اس مقصد کےلئے محفوظ مقامات پر ریلیف کیمپ قائم کئے جا رہے ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM