1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہندو لڑکی کو زبردستی مسلمان کرنے پر غم وغصہ

پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ میں ایک 16 سالہ ہندو لڑکی کے مبینہ اغوا اور اور پھر اسے مبینہ طور پر زبردستی مسلمان کرنے کے واقعے پر پاکستان بھر میں شدید غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس واقعے پر نہ صرف ملک کی ہندو برادری کی طرف سے احتجاج کیا جا رہا ہے بلکہ مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں مذہبی آزادی کے سوال پر ایک بار پھر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

پاکستانی میڈیا میں متاثرہ لڑکی کے خاندان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس نوجوان ہندو لڑکی کو صوبہ سندھ کے علاقے تھرپارکر سے اغواء کیا گیا اور اُسی دن مبینہ طور پر اسے زبردستی مسلمان کرتے ہوئے اس کی ایک مسلمان شخص سے شادی کر دی گئی۔

متاثرہ خاندان کے مطابق ایک 16 سولہ لڑکی کی شادی ملک میں رائج بچوں کی شادی کے قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں ہندو کونسل کے پیٹرن اِن چیف رمیش کُمار ونکوانی نے ڈی پی اے کو بتایا کہ وہ اس معاملے کو ملکی سپریم کورٹ میں لے کر جائیں گے۔

پاکستانی پارلیمان میں ہندو برادری کی نمائندگی کرنے والے ونکوانی کا کہنا تھا، ’’امن سے محبت کرنے والی اور محب وطن ہندو برادری کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان سے ہجرت کر جائے۔‘‘

پاکستان میں 20 لاکھ سے زائد ہندو آباد ہیں جن کی اکثریت صوبہ سندھ میں ہی آباد ہے۔  ساؤتھ ایشیا پارٹنر شپ پاکستان کی 2015ء میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر سال ایک ہزار سے زائد لڑکیوں کو زبردستی مذہب کی تبدیلی پر مجبور کیا جاتا ہے۔

رواں برس مارچ میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو اُن کے اس بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کہ زبردستی مذہب کی تبدیلی ایک جرم ہے اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا باعث ہے۔ پاکستان کے بعض مذہبی رہنماؤں نے اس پر وزیراعظم سے معذرت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔