ہندو اور مسلمان خاندان میں بیٹوں کا تبادلہ | معاشرہ | DW | 14.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہندو اور مسلمان خاندان میں بیٹوں کا تبادلہ

سلمیٰ پروین کا جذباتی ہوتے ہوئے کہنا تھا، ’’میں نے کسی اور کو جنم دیا ہے لیکن تین سال کے لیے، جس بچے نے مجھے ماں بننے کی خوشی دی ہے، اب وہی میرا بیٹا ہے۔ ممتا میرے لیے میرے خون سے زیادہ افضل ہے۔‘‘

سلمیٰ کے گھر سے تقریباﹰ 24 کلومیٹر دور ایک کسان انیل بورو کی بیوی شیوالی بورو نے بھی تقریباﹰ یہی بات کی ہے۔  وہ کہتی ہیں، ’’اب یہی میرا بیٹا ہے، شاید ہماری قسمت یہی چاہتی تھی۔‘‘ یہ کہانی کسی میلے میں بچھڑے ہوئے بچوں یا پھرکسی فلمی داستان سے کم نہیں ہے۔

آسام کے درنگ ضلع میں رہنے والی سلمیٰ اور شیوالی میں یوں تو کوئی چیز مشترک نہیں ہے۔ سلمیٰ مسلمان ہیں اور ان کے شوہر شہاب الدین احمد ایک استاد ہیں۔ دوسری طرف بوہڑو قبیلے کے انیل بورو ایک کسان ہیں اور کھیتی باڑی سے اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ریاست کے اس علاقے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلمانوں اور ہندووں کے مابین کئی پرتشدد جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں لیکن یہ ایک واقعہ دونوں مذاہب کے ماننے والوں کو ایک دوسرے سے قریب لے آیا ہے۔

تین سال پہلے ہونے والی یہ انسانی غلطی اس علاقے میں مذہبی ہم آہنگی کی بھی ایک مثال بن گئی ہے۔

 تقریباﹰ تین سال قبل گیارہ مارچ 2015ء کو دو خواتین نے ضلعی ہیڈکوارٹر میں واقع منگل دے سول ہسپتال میں ایک ہی دن اپنے بیٹوں کو جنم دیا۔ ہسپتال کی انتظامیہ کی لا پرواہی کی وجہ سے دونوں خواتین کے بچے ایک دوسرے سے تبدیل ہو گئے۔

ہسپتال سے واپس آنے کے چند روز بعد سلمیٰ کو شک ہوا کہ بچوں کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ اس کے بعد وہ پولیس کے پاس گئیں اور  ہسپتال والوں کو بھی درخواست دی گئی۔ معاملہ عدالت تک پہنچا اور دونوں خاندانوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا گیا۔ اس قانونی کارروائی کے دوران تین برس کا عرصہ گزر چکا تھا اور چند روز پہلے منگلالائی ڈسٹرکٹ کورٹ نے دونوں خاندانوں کو بچوں کے تبادلے کے لیے  عدالت میں مدعو کیا۔ لیکن جب دونوں خاندان بچوں کو تبدیل کرنے لگے تو دونوں بچوں نے رونا شروع کر دیا۔ کوئی بھی بچہ اپنی ماں کی گود سے دور اپنی حقیقی ماں کے پاس جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

 تمام کوششیں بیکار ہونے کے بعد دونوں خاندانوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ بچوں کو تبدیل نہیں کریں گے۔

سلمی پروین  کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’قانونی کارروائی کی وجہ سے وقت بہت گزر چکا ہے، اس دوران بچے کو بھی مجھ سے بہت پیار ہو چکا ہے۔‘‘

سلمٰی کا کہنا ہے کہ ہسپتال سے گھر واپس آنے کے صرف ایک ہفتے بعد ہی اسے شک ہو گیا تھا کہ یہ بچہ اس کا نہیں ہے، ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بچے کے نین نقش ہمارے خاندان میں کسی سے نہیں ملتے۔ پھر مجھے یاد آیا کہ اس کا چہرہ تو اس خاتون سے ملتا ہے، جو ہسپتال میں میرے ساتھ تھی۔‘‘

پروین اور اس کے شوہر نے اپنے بیٹے کا نام جنید جبکہ انیل بورو نے اپنا بیٹے کا نام ریان چندرا رکھا ہے۔

 انیل بارو کہتے ہیں، ’’اگر ہم زبردستی بچوں کو تبدیل کرتے تو یہ رو رو کر جان دے دیتے لہذا ہم نے قسمت کے اس فیصلے کو قبول کر لیا ہے، اب ہم بہت خوش ہیں۔‘‘ انیل کی بیٹی چتر لیکھا چھٹی جماعت میں پڑھ رہی ہے اور وہ بھی اپنے بھائی کو تبدیل نہیں کرنا چاہتی۔ دوسری طرف احمد کی بیٹی ندال بھی جنید کو ہی اپنا بھائی سمجھتی ہے۔

ان دونوں خاندانوں کا کہنا ہے کہ اب وہ ان بچوں کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ شہاب الدین احمد اور انیل کا کہنا ہے، ’’اب ہم قریبی رشتہ دار بن گئے ہیں اور یہ تعلقات زندگی بھر رہیں گے۔‘‘ انہوں نے اب عدالت سے درخواست کی ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو غفلت برتنے پر سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی خاندان اس طرح کی ذہنی اذیت میں مبتلا نہ ہو۔

انیل کے گاؤں کے پنچائت کے ایک رکن سرشور باسسمری کہتے ہیں، ’’انسانیت کا تعلق آخر میں ہر رشتے سے بڑا ثابت ہوا ہے، یہ واقعہ پورے علاقے میں  مذہبی ہم آہنگی کی ایک مثال بن گیا ہے۔‘‘

DW.COM