1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’ہم ہڈسن کی طرف جا رہے ہیں‘‘ کریش لینڈنگ سے قبل امریکی جہاز کے عملے کا آخری جملہ

گزشتہ ماہ امریکن ائیر لائن کے کریش لینڈنگ کرنے والے جہاز کے عملے اور ایوی ایشن حکام کے درمیان گفتگو کی ٹیپ ریلیز کر دی گئی ہے۔

default

کریش لینڈنگ کرنے والے جہاز سے مسافروں کو نکالا جا رہا ہے

یہ جہاز دریائے ہڈسن میں کرش لینڈنگ کے ذریعے اتر گیا تھا اور اس میں موجود مسافر اور عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے تھے۔

امریکہ کی وفاقی ایوی ایشن انتظامیہ نے 15 جنوری کو نیویارک سے گزرنے والےدریائے ہڈسن کے پانیوں پر ہنگامی لینڈنگ سے قبل جہاز کے عملے اور ایوی ایشن حکام کے درمیان ریڈیو گفتگو کی چار منٹ دورانیے کی ٹیپ ریلیز کر دی ہے۔ امریکی فضائی کمپنی کے اس ائیر بس طیارے A320کی فلائیٹ 1549 میں سوار مسافروں اور عملے کے کل افراد کی تعداد 155 تھی۔ اور بہت خوش کن بات یہ تھی کہ جہاز میں سوار تمام افراد مکمل طور پر محفوظ رہے۔

Chelsey B. Sullenberger Pilot

جہاز کے پائلٹ کیپٹن چیسلی سولین برگر

اس ٹیپ میں گفتگو کا آغاز اس جہاز کے نیویارک سے شمالی کیرولائینا کے ایک ہوائی اڈے کی جانب پرواز کے چند منٹ بعد ہی ہوتا ہے اور پھرپرندوں کا ایک جھنڈ جہاز کے انجنوں سے ٹکرا جانے کے بعد انجنوں میں خرابی پیدا ہونے کی اطلاع کی تصدیق ہوجاتی ہے۔

اڑان کے فورا بعد جب ایوی ایشن انتظامیہ اس جہاز کو مقررہ سمت اور راستے سے آگاہ کر رہی تھی تو ایسے میں پرندوں کا ایک غول جہاز کے دونوں انجنوں سے ٹکرا گیا۔ اس جہاز کا کوڈ ’ کیکٹس‘ تھا۔

امریکی ایوی ایشن حکام اور جہاز کے پائلٹ کیپٹن Chesley Sullenberger کے مابین ہونے والی گفتگو کچھ اس طرح سے ہے۔ ٹھیک اس وقت جب جہاز کو پرواز کے راستے سے آگاہ کیا جارہا تھا اچانک جہاز کے کپتان کی جانب سے ہنگامی طور پر بات کاٹتے ہوئے بتایا گیا۔

Flugzeug musste Notwassern auf dem Hudson River in New York

جہاز میں سوار تمام افراد محفوظ رہے تھے

فلائیٹ 1549 : اوہ۔۔۔ یہ کیکٹس 1549 ہے۔ ہم سے پرندے ٹکرا گئے ہیں۔ جہاز کے دونوں انجن کام چھوڑ رہے ہیں۔ ہم واپس LaGuardia ائیر پورٹ کی جانب مڑ رہے ہیں۔

فیڈرل ایوی ایشن :( LaGuardiaائیر پورٹ سے مخاطب ہوتے ہوئے) وہ۔۔ آہ۔۔1549سے پرندے ٹکرا گئے ہیں۔ اس کے انجن کام نہیں کررہے۔ وہ فوری طور پر واپس آ رہا ہے۔

فیڈرل ایوی ایشن :( جہاز سے مخاطب) کیکٹس 1549 اگر آپ کوشسش کریں تو آپ رن وے نمبر تین پر اتر سکتے ہیں۔

فلائیٹ 1549 : شاید ممکن نہ ہو۔ شاید ہمیں ہڈسن کا رخ کرنا پڑے۔

اس موقع پر کنٹرول روم سے دوبارہ جہاز کو رن وے کے حوالے سے ہدایات دی گئیں۔ جس پر جہاز کے پائلٹ کی جانب سے جواب یہ دیا گیا کہ ایسا ممکن نہیں ہو گا۔

فلائیٹ 1549 : اوہ۔۔ کیا نیو جرسی میں ہمارے لئے جگہ ہے؟ شاید Teterboro ائیر پورٹ؟

فیڈرل ایوی ایشن : کیا آپ Teterboro جانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں؟

فلائیٹ 1549 : ہاں

فیڈرل ایوی ایشن :(Teterboro ائیر پورٹ سے مخاطب ہوتے ہوئے) کیکٹس 1549 اس وقت جارج واشنگٹن پل پر ہے۔ اسے فوری طور پر اترنا ہے۔

Notlandung auf dem Houdson River

امدادی سرگرمیوں کا ایک اور منظر

فیڈرل ایوی ایشن :کیکٹس 1549 ! آپ رن وے نمبر ایک پر اتر سکتے ہیں۔

فلائیٹ 1549 : ہم وہاں نہیں اتر سکتے۔

فیڈرل ایوی ایشن :اچھا۔ آپ جس رن وے پر چاہیں اتر جائیں۔

فلائیٹ 1549 : ہم ہڈسن کی طرف جا رہے ہیں۔

فیڈرل ایوی ایشن :میں سمجھا نہیں۔ کیکٹس آپ دوبارہ بتائیں؟

اس لمحے جہاز اور ایوی ایوشن حکام کے درمیان رابطہ ختم ہو جاتا ہے۔

جہاز کے پائلٹ کیپٹن چیسلی سولین برگر جہاز کو کریش لینڈنگ کے ذریعے دریائے ہڈسن کے پانیوں پر اتارنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس وجہ سے وہ امریکہ بھر میں ایک ہیرو کے طور پر مشہور ہوگئے ہیں اورسابق امریکی صدر جارج بش نے بھی انہیں اس کارنامے پر خصوصی مبارکباد دی تھی کہ انہوں نے بڑی دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 155 انسانوں کی جان بچا لی۔